زرعی تحقیق کے ثمرات کسانوں تک پہنچائے جائیں، رانا تنویر حسین نے 10 ایکڑ پر تجدیدی زراعت کے تحقیقی بلاک کا افتتاح کر دیا

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ زرعی تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی کا اصل معیار ایسی عملی اور موثر تحقیق ہونی چاہیے جس کے ثمرات براہ راست کسانوں تک پہنچیں، زرعی پیداوار میں اضافہ ہو اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد ملے

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ زرعی تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی کا اصل معیار ایسی عملی اور موثر تحقیق ہونی چاہیے جس کے ثمرات براہ راست کسانوں تک پہنچیں، زرعی پیداوار میں اضافہ ہو اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد ملے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز (نارک) اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں نارک کے مختلف تحقیقاتی اداروں کی خریف 2026ء کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں اور ربیع 2026-27ء کے تحقیقی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ایڈیشنل سیکرٹری،ڈائریکٹر جنرل، چیئرمین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پارک) ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی، ڈائریکٹر جنرل نارک اور مختلف تحقیقاتی اداروں کے ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔سائنسدانوں سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان میں زرعی ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں تاہم ان سے بھرپور استفادے کے لیے جدید سائنسی تحقیق، نئی ٹیکنالوجی اور تحقیقاتی اداروں اور کسانوں کے درمیان موثر روابط ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ زیادہ پیداوار دینے والی اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی فصلوں کی اقسام کی تیاری، پانی کے موثر استعمال اور زرعی پیداواری لاگت میں کمی کو قومی تحقیقاتی اداروں کی اولین ترجیحات میں شامل کیا جانا چاہیے۔وفاقی وزیر نے خصوصی طور پر ہدایت کی کہ زیادہ پیداوار اور اعلیٰ معیار کی حامل باسمتی چاول کی مقامی اقسام کی تیاری کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ بھارتی اقسام پر انحصار کم کیا جا سکے۔ انہوں نے دالوں اور تیل دار اجناس کی مقامی پیداوار بڑھانے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ان فصلوں میں خودکفالت سے ملک کے درآمدی بل میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔رانا تنویر حسین نے زرعی انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ کو ہدایت کی کہ مقامی سطح پر تیار کردہ زرعی مشینری کو تجارتی بنیادوں پر متعارف کرانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ کسانوں کو کم لاگت اور جدید زرعی آلات دستیاب ہو سکیں۔ انہوں نے لائیو سٹاک کے شعبے میں تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کو جانوروں کی اہم بیماریوں کے خلاف ویکسین کی تیاری اور تحقیق پر مبنی معیاری جانوروں کی خوراک کے فروغ پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت بھی کی۔ملکی زرعی برآمدات کے امکانات کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے جدید شہد بانی کے طریقوں کو فروغ دینے، شہد کے معیار کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی معیارات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے موزوں موسمی حالات رکھنے والے علاقوں میں ایووکاڈو اور بلیو بیری سمیت زیادہ معاشی قدر رکھنے والے پھلوں کی کاشت کو فروغ دینے کی بھی ہدایت کی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پارک کے سائنسدان صوبائی حکومتوں، بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں اور نجی شعبے کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ جدید زرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے فوائد بلاتاخیر کسانوں تک پہنچائے جا سکیں۔اس سے قبل چیئرمین پارک ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی نے وفاقی وزیر کو ادارے کے جاری تحقیقی پروگراموں اور انتظامی اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے ایگریکلچرل لنکیجز پروگرام کو مزید فعال بنانے اور وفاقی و صوبائی تحقیقاتی اداروں کے درمیان روابط اور تعاون بڑھانے کے لیے بین الصوبائی زرعی تحقیقاتی رابطہ کمیٹی کی بحالی سے بھی آگاہ کیا۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ خریف 2026ء کے دوران فصلوں کی چھ نئی اقسام کی منظوری حاصل کی گئی جبکہ 265 ٹن سے زائد معیاری بیج تیار کیا گیا۔ سائنسدانوں نے جانوروں کی بہتر افزائش نسل، مقامی سطح پر پی پی آر بیماری کے خلاف حرارت برداشت کرنے والی ویکسین کی تیاری، زرعی مشینری کی جدید کاری، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت اور آبی وسائل کے تحفظ کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔اجلاس میں باغبانی، خوراک کی پروسیسنگ اور شہد کی مکھیوں سے متعلق تحقیق میں حاصل ہونے والی کامیابیوں پر بھی بریفنگ دی گئی جن میں پاکستان کے پہلے جدید ترین بی ویکس شیٹ پیداواری یونٹ کا قیام بھی شامل ہے۔ وفاقی وزیر نے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے ان کے وسیع پیمانے پر فروغ اور تجارتی استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔ادارہ جاتی کارکردگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے پارک کے ملازمین پر زور دیا کہ وہ ادارے کو اپنا ادارہ سمجھتے ہوئے احساس ملکیت، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور مکمل لگن کے ساتھ فرائض انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ پارک کی ساکھ اور وقار کو مضبوط بنانے کا بہترین راستہ معیاری سائنسی تحقیق اور ملکی زرعی ترقی میں نمایاں اور عملی کردار ادا کرنا ہے۔وفاقی وزیر نے محدود وسائل کے باوجود تحقیقاتی سرگرمیاں جاری رکھنے پر چیئرمین پارک، ڈائریکٹر جنرل نارک اور سائنسدانوں کی کاوشوں کو سراہا اور ادارے کو درپیش انتظامی و عملی مسائل کے حل کے لیے وزارت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس کے بعد وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے نارک میں 10 ایکڑ رقبے پر قائم ری جنریٹو ایگریکلچر بلاک (تجدیدی زراعت کے تحقیقی بلاک) کا افتتاح کیا۔ اس منصوبے کا مقصد پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ دینا، زمین کی زرخیزی بحال کرنا، قدرتی وسائل کے موثر استعمال کو یقینی بنانا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں زرعی شعبے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ تجدیدی زراعت اور جدید تحقیق پر مبنی کاشتکاری کے طریقے پاکستان کے زرعی وسائل کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کے لیے پائیدار زرعی پیداوار یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔رانا تنویر حسین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پارک اور نارک سے توقع رکھتی ہے کہ وہ کسانوں کو درپیش مسائل کے حل، زرعی پیداوار میں اضافے اور قومی غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے مزید موثر اور نتیجہ خیز کردار ادا کریں گے۔

مزید خبریں