راولپنڈی میں ڈینگی کے خلاف حفاظتی اقدامات جاری ہیں جبکہ رواں سال اب تک 77 افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ ضلع بھر میں ڈینگی کی روک تھام کے لیے انڈور اور آئوٹ ڈور سرویلنس، لاروا کی نشاندہی اور ایس او پیز کی خلاف ورزیوں پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں
راولپنڈی میں رواں سال ڈینگی کے 77 کیسز کی تصدیق، 6 مریض زیر علاج

مزید خبریں
راولپنڈی ۔27اکتوبر (اے پی پی):راولپنڈی میں ڈینگی کے خلاف حفاظتی اقدامات جاری ہیں جبکہ رواں سال اب تک 77 افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ ضلع بھر میں ڈینگی کی روک تھام کے لیے انڈور اور آئوٹ ڈور سرویلنس، لاروا کی نشاندہی اور ایس او پیز کی خلاف ورزیوں پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال راولپنڈی کے ہسپتالوں میں ڈینگی کے شبے میں 5,674 مریضوں کی نشاندہی ہوئی جبکہ مجموعی طور پر 6,170 مریضوں کی اسکریننگ کی گئی۔ ان میں سے 77 افراد میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی، 419 مریضوں کے ٹیسٹ منفی آئے جبکہ 6 مصدقہ مریض ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈینگی کے باعث تاحال کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈینگی کی روک تھام کے لیے 415 آؤٹ ڈور ٹیمیں اور 985 انڈور ٹیمیں سرگرم عمل ہیں جبکہ گزشتہ ہفتے کے دوران سرویلنس کوریج 99 فیصد رہی۔
ضلع بھر میں 17,859 ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کرکے انہیں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے نظام میں رجسٹر کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ڈینگی بریٹیو انڈیکس 84 یونین کونسلوں میں 3 سے کم، 77 یونین کونسلوں میں 3 سے 7 کے درمیان، 11 یونین کونسلوں میں 7 سے 10 کے درمیان اور 17 یونین کونسلوں میں 10 سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈینگی لاروا کی سب سے زیادہ نشاندہی ڈھوک حسو شمالی، چکلالہ کینٹونمنٹ، نرڑ کہوٹہ اور پیرودھائی کے علاقوں میں ہوئی جہاں بریٹیو انڈیکس بالترتیب 16.59، 16.46، 15.22 اور 15.13 ریکارڈ کیا گیا۔ دیگر متاثرہ علاقوں میں راولپنڈی کینٹونمنٹ، ڈکھالی کہوٹہ، ہزارہ کالونی، کہوٹہ سٹی اور رحمت آباد کے علاقے شامل ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ڈینگی لاروا کی موجودگی اور مقررہ ایس او پیز کی خلاف ورزیوں پر کارروائی کرتے ہوئے 2,798 مقدمات درج کیے گئے، 686 مقامات سیل کیے گئے اور 2,331 چالان کیے گئے جبکہ مجموعی طور پر 31 لاکھ 56 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ ڈینگی کی روک تھام کے لیے ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی (DERC) کے 35 اور تحصیل ایمرجنسی رسپانس کمیٹی (TERC) کے 112 اجلاس بھی منعقد کیے گئے جن میں بیماری کی روک تھام اور سرویلنس سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔








