قومی اسمبلی نے منگل کو بریسٹ فیڈنگ اور بچوں کی غذائیت کے تحفظ کا بل 2024 منظور کر لیا، جس کا مقصد ماں کے دودھ کے فروغ، بچوں کی مناسب غذائیت کے تحفظ اور شیر خوار بچوں کے لیے متبادل دودھ کی مصنوعات کی تشہیر کو منظم کرنے کے لئے ایک قانونی فریم ورک میں لانا ہے
قومی اسمبلی سے بریسٹ فیڈنگ اور بچوں کی غذائیت کے تحفظ کا بل 2024 منظور، فارمولا دودھ کی تشہیر پر پابندیوں اور خلاف ورزی پر سخت سزاؤں کی تجویز

مزید خبریں
اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی نے منگل کو بریسٹ فیڈنگ اور بچوں کی غذائیت کے تحفظ کا بل 2024 منظور کر لیا، جس کا مقصد ماں کے دودھ کے فروغ، بچوں کی مناسب غذائیت کے تحفظ اور شیر خوار بچوں کے لیے متبادل دودھ کی مصنوعات کی تشہیر کو منظم کرنے کے لئے ایک قانونی فریم ورک میں لانا ہے۔ بل کا اطلاق اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) میں ہوگا، جبکہ والدین کو گمراہ کن تشہیر سے محفوظ رکھنے اور بچوں کی غذائیت سے متعلق درست معلومات کی فراہمی یقینی بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔بل کے تحت زندگی کے ابتدائی چھ ماہ تک بچوں کو صرف ماں کا دودھ پلانے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ چھ ماہ کی عمر کے بعد مناسب اضافی غذا کے ساتھ دو سال یا اس سے زیادہ عرصے تک ماں کا دودھ پلانا جاری رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔مجوزہ قانون کے تحت تین سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے مخصوص دودھ اور غذائی مصنوعات کی تشہیر، مفت نمونوں کی تقسیم، تحائف، رعایتوں، انعامات اور سپانسرشپ سمیت دیگر تشہیری سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز ہےتاکہ ماں کے دودھ کی اہمیت کم کرنے والے اقدامات کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔بل میں متعلقہ مصنوعات کی رجسٹریشن اور لیبلنگ کے لیے بھی ضوابط تجویز کیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق مصنوعات پر اردو میں ضروری معلومات، اجزا کی تفصیلات، تیاری اور استعمال کے طریقۂ کار کے ساتھ ماں کے دودھ کے فوائد اجاگر کرنے والی تنبیہات درج کرنا لازم ہوگا تاکہ والدین بچوں کی غذائیت کے حوالے سے بہتر فیصلہ کر سکیں۔مجوزہ قانون کے تحت صحت کے مراکز، زچگی وارڈز اور بچوں کی نگہداشت کے مراکز میں کمپنیوں کی جانب سے مصنوعات کی براہِ راست تشہیر، طبی عملے کو تحائف یا مالی فوائد دینے، مفت نمونے فراہم کرنے اور سپانسرشپ کے ذریعے اثرانداز ہونے کی کوششوں پر بھی پابندی عائد کرنے کی تجویز ہے۔بل میں تعلیمی مواد میں سائنسی طور پر درست معلومات فراہم کرنا، ماں کے دودھ کے فوائد واضح کرنا اور فارمولا دودھ کی تیاری و استعمال کے محفوظ طریقوں سے متعلق رہنمائی شامل کرنا بھی شامل ہے۔بل کے تحت وفاقی حکومت کے ماتحت اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری بریسٹ فیڈنگ اینڈ چائلڈ نیوٹریشن بورڈ قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ بورڈ متعلقہ مصنوعات کی رجسٹریشن، معیار اور لیبلنگ کی نگرانی کرے گا، جبکہ قانون پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے انسپکٹرز تعینات کرنے، خلاف ورزیوں کی تحقیقات اور غیر معیاری مصنوعات کی واپسی جیسے اقدامات بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہوں گے۔ بورڈ عوامی آگاہی مہمات چلانے اور صحت کے عملے کی تربیت میں بھی کردار ادا کرے گا۔
مجوزہ قانون میں خلاف ورزیوں پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ پہلی خلاف ورزی پر کم از کم چار سال قید، ایک لاکھ سے پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں قید اور جرمانے کی سزا دوگنی کرنے کے ساتھ کاروباری لائسنس منسوخ کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔بل کے تحت انسپکٹرز کو خلاف ورزی کرنے والی مصنوعات ضبط کرنے، متعلقہ مقامات کا معائنہ کرنے اور قانون کے مطابق کارروائی کرنے کے اختیارات دینے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ انسپکٹرز کے احکامات کے خلاف اپیل کا طریقۂ کار بھی وضع کیا گیا ہے، جس کے تحت پہلی اپیل 15 روز کے اندر ڈائریکٹر جنرل کے پاس، جبکہ مزید اپیل 30 روز کے اندر متعلقہ وزارت کے سیکرٹری اور بورڈ کے ارکان کے سامنے دائر کی جا سکے گی۔بل کے تحت بورڈ کے مالی معاملات میں شفافیت اور احتساب یقینی بنانے کے لیے فنڈ، بجٹ اور حسابات کا نظام قائم کرنے کی تجویز بھی بل کا حصہ ہے۔ اس کے تحت بورڈ کے حسابات کا سالانہ آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے کرایا جائے گا، جبکہ کارکردگی رپورٹ وفاقی حکومت کو پیش کرنے اور اسے قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
بل کا بنیادی مقصد ماں کے دودھ کے فروغ اور بچوں کی مناسب غذائیت کو ترجیح دینا، فارمولا دودھ بنانے والی کمپنیوں کی تجارتی تشہیر کو ضابطے میں لانا، والدین کو درست معلومات فراہم کرنا اور صحت کے اداروں میں غیر ضروری تجارتی اثرورسوخ کو محدود کرنا ہے۔








