ریسکیو 1122 کو 23 ہزار سے زائد غیر ضروری کالیں کی گئی، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر عادل الرحمٰن کے زیر نگرانی ماہ اکتوبر 2026 کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق ریسکیو 1122 کے کنٹرول روم میں مجموعی طور پر 32341 فون کالز موصول ہوئیں، جن میں 7327 ایمرجنسی کالز شامل تھیں۔رپورٹ کے مطابق موصول ہونے والی کالز میں سے 23735 غیر ضروری و غیر متعلقہ کالز اور 459 ڈسٹورٹڈ، بلینک یا ڈراپ کالز تھیں، جن کی مجموعی تعداد …

رحیم یارخان ۔ 03 نومبر (اے پی پی):ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر عادل الرحمٰن کے زیر نگرانی ماہ اکتوبر 2026 کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق ریسکیو 1122 کے کنٹرول روم میں مجموعی طور پر 32341 فون کالز موصول ہوئیں، جن میں 7327 ایمرجنسی کالز شامل تھیں۔رپورٹ کے مطابق موصول ہونے والی کالز میں سے 23735 غیر ضروری و غیر متعلقہ کالز اور 459 ڈسٹورٹڈ، بلینک یا ڈراپ کالز تھیں، جن کی مجموعی تعداد 24194 رہی۔ اس کے علاوہ 803 معلومات کے حصول اور 18 غلط کالز موصول ہوئیں۔ ہنگامی واقعات میں 89 10روڈ ٹریفک حادثات ، 479 5دیگر واقعات جن میں زیادہ تر طبی ایمرجنسیز شامل تھیں، 50 آتشزدگی کے واقعات، 94 جرائم و تشدد اور گولی لگنے کے واقعات، 5 ڈوبنے کے واقعات اور 610 متفرق ایمرجنسیزشامل تھیں۔

روزانہ اوسطاً 236ایمرجنسی کالز پر کارروائی کی گئی، جبکہ عمومی اوسط رسپانس ٹائم 9منٹ اور فائر ایمرجنسیز کا اوسط رسپانس ٹائم8منٹ رہا۔مجموعی طور پر 246 7متاثرین کو ریسکیو سروس فراہم کی، جن میں 2215 متاثرین کو جائے حادثہ پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، 4791 مریضوں کو طبی امداد کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ 240 افراد موقع پر جاں بحق پائے گئے۔ ضلع کی چاروں تحصیلوں میں مجموعی طور پر 1089 روڈ ٹریفک حادثات پیش آئے، جن میں 1225افراد متاثر ہوئے۔ حادثات کے متاثرین میں 933 مرد اور 292 خواتین شامل تھیں، جبکہ 18 افراد جاں بحق ہوئے، 466 متاثرین کی حالت مستحکم اور 741 کی حالت غیر مستحکم تھی۔

رپورٹ کے مطابق حادثات میں 1296موٹر سائیکلیں، 95 موٹر سائیکل رکشے، 76 کاریں، 74 دیگر گاڑیاں، 43 رکشے، 31 ٹرک، 28 ٹریکٹر ٹرالیاں، 22 وینز اور 8 بسیں شامل تھیں۔ متاثرین میں 752 ڈرائیور، 367 مسافر اور 106 پیدل چلنے والے شامل تھے، جبکہ 76 کم عمر ڈرائیور بھی حادثات کے اعدادوشمار میں درج کیے گئے۔ عمر کے لحاظ سے 21 سے 30 سال کے 330، 11 سے 20 سال کے 276، 31 سے 40 سال کے 218، 41 سے 50 سال کے 166، 51 سے 60 سال کے 130، 60 سال سے زائد عمر کے 52 اور 1 سے 10 سال کے 53 افراد متاثر ہوئے۔

چوٹوں کی تفصیلات میں1070 معمولی زخمی، 84 گہرے زخم، 38 سنگل فریکچر، 22 سر کی چوٹیں اور 11 متعدد فریکچر کے کیسز رپورٹ ہوئے۔ حادثات کی بڑی وجوہات میں 669 واقعات غفلت و لاپرواہی، 144 تیز رفتاری، 39 غلط موڑ، 6 یوٹرن، 8 ٹائر پھٹنے اور 223 دیگر وجوہات کے باعث پیش آئے۔ رپورٹ کے مطابق رحیم یارخان تحصیل میں سب سے زیادہ ٹریفک حادثات پیش آئے، جبکہ مجموعی اعدادوشمار میں موٹر سائیکل سوار اور نوجوان طبقہ نمایاں طور پر متاثر ہوا۔

ریسکیو 1122 کی جانب سے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ ٹریفک قوانین کی پابندی کریں، موٹر سائیکل چلاتے وقت ہیلمٹ پہنیں، تیز رفتاری اور غیر محتاط ڈرائیونگ سے اجتناب کریں اور دوران ڈرائیونگ اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔پیشنٹ ٹرانسفرسروس کے ذریعے ریسکیو1122ضلع بھرمیں1192افرادکوچھوٹے ہسپتالوں سے بڑے ہسپتالوں میں منتقل کیا۔ ڈاکٹروں کی طرف سے ریفرکئے گئے 50مریضوں کورحیم یارخان،508صادق آباد، 393خان پور،241لیاقت پوراوران میں سے 148کوضلع سے باہردیگراضلاع کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

 

مزید خبریں