پاکستان گرین ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹل تبدیلی کے شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے، منظور علی میمن

چین میں پاکستانی سفارت خانے کے منسٹر پریس اینڈ کلچر منظور علی میمن نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل تبدیلی

بیجنگ۔4نومبر (اے پی پی):چین میں پاکستانی سفارت خانے کے منسٹر پریس اینڈ کلچر منظور علی میمن نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل تبدیلی، گرین انرجی،اسمارٹ زراعت اور تکنیکی جدت کے شعبوں میں چین کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کا خواہاں ہے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو 2026 ورلڈ انٹرنیٹ کانفرنس ووجن سمٹ کے موقع پر منعقدہ ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے ماحول دوست اور کم کاربن ترقی کے لیے ڈیجیٹل اور ذہین ٹیکنالوجیز کے موضوع پر منعقدہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین کی تکنیکی صلاحیتوں کو پاکستان کے انسانی وسائل، تزویراتی محل وقوع اور ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل نظام کے ساتھ یکجا کرکے ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ چائنہ اکنامک نیٹ ورک (سی ای این) کے مطابق فورم میں چین اور دیگر ممالک کے حکومتی، صنعتی اور علمی شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے شرکت کی، جہاں اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ ڈیجیٹل اور جدید ٹیکنالوجیز ماحول دوست اور کم کاربن ترقی کے عمل کو کس طرح تیز کر سکتی ہیں۔ پاکستانی منسٹر پریس و ثقافت نے کہا کہ پاکستان اور چین رواں سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو سدا بہار سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور ترقی و خوشحالی کے مشترکہ عزم پر استوار ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)نے پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، توانائی کی استعداد بڑھانے اور علاقائی روابط کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ سی پیک کے دوسرے مرحلے (سی پیک 2.0) کے تحت ترقی، جدت، ماحول دوست ترقی، عوامی فلاح و بہبود اور علاقائی روابط پر مشتمل پانچ راہداریوں کے ذریعے تعاون کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

ان ترجیحات کو انہوں نے پاکستان کے ترقیاتی پروگرام ’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت فائیو ایز فریم ورک سے ہم آہنگ قرار دیا، جس میں برآمدات، ای پاکستان، توانائی و ماحولیات اور مساوات و بااختیاری کے شعبے شامل ہیں۔ منظور میمن نے کہا کہ دوطرفہ تعاون کا اگلا مرحلہ روایتی بنیادی ڈھانچے سے آگے بڑھ کر صنعتی ترقی، زرعی جدت، قابل تجدید توانائی، تکنیکی جدت اور ڈیجیٹل تبدیلی جیسے شعبوں تک پھیلایا جائے گا۔ انہوں نے توانائی ذخیرہ کرنے، الیکٹرک گاڑیوں اور سمارٹ ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون کے مواقع کو بھی اجاگر کیا اور چینی ماہرین اور کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے متعلقہ اداروں کے ساتھ شراکت داری کے امکانات تلاش کریں تاکہ زیادہ موثر اور پائیدار توانائی کا نظام تشکیل دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت دوطرفہ تعاون کا ایک نہایت اہم اور امید افزا شعبہ ہے کیونکہ دونوں ممالک غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے، زرعی پیداوار میں اضافہ کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہیں۔

منظور علی میمن نے بتایا کہ ایک ہزار پاکستانی زرعی ماہرین اور پروفیشنلز کی چینی جامعات میں جاری تربیت پاکستان کے زرعی مستقبل میں ایک اہم سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجیز اور کاشتکاری کے جدید طریقوں سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد یہ ماہرین وطن واپسی پر ملکی زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔ انہوں نے سائنسی معلومات کو عملی حل میں تبدیل کرنے اور جامع معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے جامعات، تحقیقی اداروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور زرعی تنظیموں کے درمیان مسلسل تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ منظور علی میمن نے بین الاقوامی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے، ذمہ دارانہ جدت اور ڈیجیٹل سہولیات تک سب کی رسائی کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو انسانی زندگی بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی پائیداری اور معیشت کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی مضبوط بنانی چاہیے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ آئیے اس بات کو یقینی بنائیں کہ ٹیکنالوجی کی ہر نئی پیش رفت ہمیں سرسبز ماحول، زیادہ مضبوط معیشت، بہتر غذائی تحفظ اور آنے والی نسلوں کے لیے زیادہ پائیدار مستقبل کے قریب لے جائے۔

 

مزید خبریں