ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ آبپاشی پنجاب علی اکبر بھنڈر نے کہا ہے کہ نہری پانی چوری کی روک تھام کے ساتھ ای آبِیانہ نظام کے تحت آبپاشی واجبات کی وصولی بھی مؤثر بنائی جائے۔ کاشتکاروں کو ای آبِیانہ نظام، ادائیگی کے طریقہ کار اور بروقت واجبات جمع کروانے کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جائے تاکہ وصولیوں کے مقررہ اہداف حاصل کیے جا سکیں
نہری پانی چوری کی روک تھام کے ساتھ ای آبِیانہ نظام کے تحت آبپاشی واجبات کی وصولی بھی مؤثر بنائی جائے،ایڈیشنل سیکرٹری علی اکبر بھنڈر

مزید خبریں
سرگودھا۔ 04 نومبر (اے پی پی):ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ آبپاشی پنجاب علی اکبر بھنڈر نے کہا ہے کہ نہری پانی چوری کی روک تھام کے ساتھ ای آبِیانہ نظام کے تحت آبپاشی واجبات کی وصولی بھی مؤثر بنائی جائے۔ کاشتکاروں کو ای آبِیانہ نظام، ادائیگی کے طریقہ کار اور بروقت واجبات جمع کروانے کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جائے تاکہ وصولیوں کے مقررہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈپٹی کمشنر سرگودھا حسین احمد رضا چوہدری کے ہمراہ انسدادِ آبی چوری اور ای آبِیانہ مہم کے حوالے سے مشترکہ رابطہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ایس پی انویسٹی گیشن عمران چدھڑ، سپرنٹنڈنگ انجینئر محکمہ آبپاشی اور ضلعی انتظامیہ و محکمہ آبپاشی کے متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ علی اکبر بھنڈر نے ہدایت کی کہ ای آبِیانہ کی وصولی کے عمل میں تیزی لائی جائے، کاشتکاروں کو ادائیگی کے طریقہ کار سے آگاہ کیا جائے اور وصولیوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے۔
انہوں نے نہری پانی چوری کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے اور متعلقہ محکموں کے درمیان رابطہ مضبوط رکھنے پر بھی زور دیا۔ڈپٹی کمشنر حسین احمد رضا چوہدری نے آگاہ کیا کہ ضلع بھر میں نہری پانی چوری کی روک تھام کے لیے کارروائیاں جاری ہیں اور اس ضمن میں سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اپنے علاقوں میں فیلڈ افسران کے ذریعے مؤثر نگرانی اور خلاف ورزیوں کے خلاف فوری کارروائی یقینی بنائیں۔ محکمہ آبپاشی کو بھی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کارروائیوں اور متعلقہ معاملات سے مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے تاکہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت پانی چوری کی روک تھام کی جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ای آبِیانہ کی وصولی کے لیے بھی محکمہ آبپاشی کے ساتھ مکمل تعاون کیا جارہا ہے، کاشتکاروں کو بروقت ادائیگی کی ترغیب دینے اور وصولیوں کے عمل میں درپیش مسائل کے حل کے لیے متعلقہ افسران کو متحرک رکھا جائے گا۔







