سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام میں موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے سلسلے میں گرین یوتھ موومنٹ (جی وائی ایم ) کلب کے زیر اہتمام فیکلٹی آف کراپ پروٹیکشن میں ’’تیار‘‘ پروگرام کے تحت ’’ہم ہیں تیار‘‘ کے عنوان سے تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی
سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد، طلبہ کو عملی اقدامات کی تربیت دی گئی

مزید خبریں
حیدرآباد۔ 04 نومبر (اے پی پی):سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام میں موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے سلسلے میں گرین یوتھ موومنٹ (جی وائی ایم ) کلب کے زیر اہتمام فیکلٹی آف کراپ پروٹیکشن میں ’’تیار‘‘ پروگرام کے تحت ’’ہم ہیں تیار‘‘ کے عنوان سے تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی جس میں یونیورسٹی کی مختلف فیکلٹیز کے طلبہ نے شرکت کی۔ورکشاپ کا مقصد نوجوانوں کو موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات کے خطرات میں کمی، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری اور مقامی سطح پر کمیونٹیز کو قدرتی آفات کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے حوالے سے عملی تربیت اور آگاہی فراہم کرنا تھا۔ اس موقع پر فیکلٹی آف کراپ پروٹیکشن کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عبدالمبین لودھی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی موجودہ دور کا ایک بڑا عالمی چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے فوری، مربوط اور اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگلات کی کٹائی اور صنعتی اخراج ماحولیاتی تبدیلی کے اہم اسباب ہیں، اس لیے شجرکاری، درختوں کے تحفظ، قدرتی وسائل کے بہتر استعمال اور ماحول دوست طرز زندگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لیے ہر شہری کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ محض پودے لگانا کافی نہیں بلکہ ان کی مناسب دیکھ بھال اور نشوونما بھی ضروری ہے۔ نوجوان نسل ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے اور اپنی کمیونٹیز کو قدرتی آفات سے محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ ورکشاپ سے گرین یوتھ موومنٹ کے فوکل پرسن ڈاکٹر محمد جاوید شیخ، کمیٹی کے اراکین ڈاکٹر عبدالوحید سولنگی اور ڈاکٹر مہرالنساء رائیس نے بھی خطاب کیا اور موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات سے پیشگی تحفظ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں کی عملی شمولیت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
مقررین نے کہا کہ قدرتی آفات کے نقصانات کم کرنے اور محفوظ و مضبوط معاشرے کی تشکیل کے لیے نوجوانوں کو تربیت فراہم کرنا اور انہیں کمیونٹی کی سطح پر متحرک کرنا ضروری ہے۔ ورکشاپ کے اختتام پر پروفیسر ڈاکٹر عبدالمبین لودھی نے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔







