گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں پائیدار امن کا قیام پہلی ترجیح ہے، امن ہوگا تو سرمایہ کاری آئے گی
حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان مضبوط اشتراک کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں، فیصل کریم کنڈی

مزید خبریں
پشاور۔ 06 نومبر (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں پائیدار امن کا قیام پہلی ترجیح ہے، امن ہوگا تو سرمایہ کاری آئے گی، کاروبار ترقی کرے گا اور صوبہ خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاوس پشاور میں منعقدہ دوسری آل خیبرپختونخوا چیمبرز پریذیڈنٹس کانفرنس اینڈ بزنس ایکسیلینس ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ایرانی ڈپٹی قونصل جنرل محمد حسن معظمی، چیئرمین سید جواد حسین، یونائیٹڈ بزنس گروپ کے پیٹرن انچیف ایس ایم تنویر، سیکرٹری جنرل ظفر بختاوری ، سمیڈا کے ریجنل چیف راشد اعوان اور حنیف گوہر سمیت کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہماری پوری توجہ صوبے کے مسائل کے حل پر مرکوز ہے اور جس علاقے کے لیے جو فنڈ فراہم ہوگا، وہ اسی علاقے میں خرچ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل، معدنیات، توانائی، زراعت اور سیاحت کے حوالے سے بے پناہ صلاحیت کاحامل صوبہ ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو بروئے کار لاکر مقامی صنعتوں کو فروغ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان مضبوط اشتراک کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ صوبے میں صنعتیں مسلسل چلتی رہیں، سرمایہ کاری بڑھے اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ تاجر برادری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کاروباری شخصیات پر زور دیا کہ وہ اپنے مسائل اور تجاویز پر مشتمل قابل عمل منصوبے تیار کریں، وہ ان منصوبوں کے لیے متعلقہ فورمز پر جانے کو تیار ہیں۔ گورنر نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن بلا امتیاز جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی مقامی مصنوعات، صنعتوں اور کاروباری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے میڈ اِن خیبرپختونخوا کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں مقامی صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کو اپنے کاروبار اور مصنوعات متعارف کرانے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی ترقی کے لیے حکومت، کاروباری برادری اور تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔ سرمایہ کاروں کو اعتماد، شفافیت اور سہولیات فراہم کرکے صوبے کو معاشی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جاسکتا ہے۔







