وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں سے پاکستان سفارتی اور معاشی محاذ پر نئی بلندیوں کی جانب گامزن ہے، ملک میں کھیلوں، ثقافت اور سیاحت کے فروغ کے لیے بھرپور سرگرمیاں جاری ہیں، ٹینٹ پیگنگ جیسے روایتی کھیل پاکستان کے ثقافتی تشخص اور سافٹ امیج کے عکاس ہیں۔
ٹینٹ پیگنگ جیسے روایتی کھیل پاکستان کے ثقافتی تشخص اور سافٹ امیج کے عکاس ہیں، خواتین نیزہ بازوں کی مہارت عالمی سطح پر مثبت پیغام ہے، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں سے پاکستان سفارتی اور معاشی محاذ پر نئی بلندیوں کی جانب گامزن ہے، ملک میں کھیلوں، ثقافت اور سیاحت کے فروغ کے لیے بھرپور سرگرمیاں جاری ہیں، ٹینٹ پیگنگ جیسے روایتی کھیل پاکستان کے ثقافتی تشخص اور سافٹ امیج کے عکاس ہیں۔ ہفتہ کو یہاں ایف نائن پارک میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس خان کے ہمراہ پاکستان ٹورازم، سپورٹس اینڈ فیملی فیسٹیول کے تحت نیزہ بازی (ٹینٹ پیگنگ) کے مقابلوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے نیزہ بازی کے کلبوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سردار یاسر الیاس خان نے ٹورازم کا شاندار میلہ سجایا ہے جس سے اسلام آباد اور گردونواح کے عوام کو صحت مندانہ سرگرمیوں میں شرکت کا موقع مل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ ملک میں اس نوعیت کے ایونٹس کا انعقاد مزید بڑھایا جائے، مستقبل میں بھی بڑے ایونٹس منعقد ہوں گے، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے اجلاس بھی ہونے جا رہے ہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ٹینٹ پیگنگ پاکستان کا روایتی کھیل اور ثقافتی پہچان ہے، ایسے کھیل نوجوان نسل کو اپنی ثقافت سے جوڑتے ہیں۔ گھڑ سواری ہو یا دیگر کھیلوں کی سرگرمیاں، پاکستانی کسی سے کم نہیں بلکہ کئی شعبوں میں انہیں برتری حاصل ہے۔
ہماری خواتین اور بچیاں جس مہارت کے ساتھ نیزہ بازی کے مقابلوں میں حصہ لے رہی ہیں، وہ پوری دنیا کے لیے ایک مثبت پیغام ہے اور لاکھوں خواتین کے لیے مشعل راہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جناح سٹیڈیم میں پیرا گلائیڈنگ، ہاٹ ایئر بلون اور خاندانوں کے لیے مختلف سٹالز سمیت متعدد سرگرمیاں جاری ہیں۔ فیسٹیول میں کھیل، ثقافت اور خاندانی تفریح کا حسین امتزاج پیش کیا گیا ہے۔ کامیاب فیسٹیول کے انعقاد میں انتظامیہ کا کردار لائق تحسین ہے۔ انہوں نے اسلام آباد کے شہریوں سے کہا کہ وہ جناح سٹیڈیم آ کر اس فیسٹیول میں شرکت کریں جہاں کھانوں، موسیقی، کھیلوں، پیرا گلائیڈنگ اور دیگر سرگرمیوں سے لطف اندوز ہونے کے مواقع موجود ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ہدایات ہیں کہ ایسی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے اور پاکستان کا حقیقی تشخص دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ سردار یاسر الیاس خان نے اس ایونٹ کا انعقاد کرکے اسے آگے بڑھایا ہے، ایسے مقابلوں سے نہ صرف صحت مند مسابقت پیدا ہوتی ہے بلکہ کھیلوں کی مثبت روح کو بھی تقویت ملتی ہے۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع ملتے ہیں جبکہ خاندانوں، مختلف طبقوں، میڈیا اور سفارتی برادری کو بھی پاکستان کی ثقافت اور کھیلوں سے روشناس ہونے کا موقع ملتا ہے۔ اس موقع پر صحافی کے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم کے وژن اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں سے پاکستان سفارتی اور معاشی محاذ پر نئی بلندیوں سے ہمکنار ہوا ہے
۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سہ فریقی کرکٹ سیریز کا کامیاب انعقاد ہوا، انگلینڈ اور سری لنکا کی ٹیمیں پاکستان آئیں اور بہترین میچز کھیلے گئے، ہاکی لیگ کا آغاز ہوا، سکواش چیمپئن شپ اور یوتھ ٹیلنٹ ہنٹ سمیت کھیلوں کی متعدد سرگرمیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ اڑھائی سال کے دوران پاکستان میں کھیلوں کی جتنی سرگرمیاں ہوئیں، اس سے قبل ملکی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ مختلف ممالک کے سربراہان مملکت کے دورے بھی جاری ہیں اور مختلف وفود اور کھیلوں کی ٹیمیں پاکستان آ رہی ہیں۔ مستقبل میں بھی ایسے ایونٹس میں مزید اضافہ ہوگا جس سے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، پاکستان کا سافٹ امیج بہتر ہوگا اور سیاحت کو ترقی ملے گی۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ناروے کے ڈی جے ایلن واکر نے پاکستان کا دورہ کیا اور لاہور میں ایک ریل بنائی جو 20 ملین سے زائد ویوز حاصل کر چکی ہے۔ ایسی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور فنکاروں کی سرپرستی سے پاکستان ترقی کرے گا۔ ہماری برآمدات میں موسیقی اور دستکاری کی مصنوعات بھی شامل ہو سکتی ہیں جبکہ ہمارے سپورٹس مین پوری دنیا کو ٹینٹ پیگنگ سکھا سکتے ہیں۔







