وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان (ایس ایم ایز) کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پاک ایکسِم بینک کی ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت مختص 300 ارب روپے کی پوری رقم اہل ایس ایم ای برآمد کنندگان کے لیےمخصوص کر دی ہےجس سے انہیں رعایتی مالی سہولتوں تک رسائی اور عالمی منڈیوں میں مسابقت کے بہتر …
حکومت نے پاک ایکسِم بینک کی ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت مختص 300 ارب روپے کی پوری رقم اہل ایس ایم ای برآمد کنندگان کے لیے مخصوص کر دی ہے، خرم شہزاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان (ایس ایم ایز) کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پاک ایکسِم بینک کی ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت مختص 300 ارب روپے کی پوری رقم اہل ایس ایم ای برآمد کنندگان کے لیےمخصوص کر دی ہےجس سے انہیں رعایتی مالی سہولتوں تک رسائی اور عالمی منڈیوں میں مسابقت کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔
ہفتہ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن اور وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمداورنگزیب کی قیادت میں حکومتِ پاکستان نے ایک اہم پالیسی فیصلہ کرتے ہوئے پاک ایکسِم بینک کی ایکسپورٹ فنانس اسکیم (E-EFS) کے تحت مختص تمام 300 ارب روپے (تقریباً 1.1 ارب امریکی ڈالر) صرف اہل چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان (SMEs) کے لیے مخصوص کر دئیے ہیں۔اس فیصلے سے کیا تبدیلی آئی ہے؟ 300 ارب روپے صرف ایس ایم ای برآمد کنندگان کے لیے پوری رقم اب خصوصی طور پر اہل چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمدی کاروباروں کے لیے مختص ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی میں زیادہ واضح ترجیح: پہلے یہ رقم چھوٹے اور درمیانے کاروباروں، زرعی شعبے کے ایس ایم ایز اور اسکیم سے پہلی بار فائدہ اٹھانے والوں کے لیے مشترکہ طور پر مختص تھی۔ اب پوری رقم صرف اہل ایس ایم ایز کے لیے مخصوص کر دی گئی ہے، برآمدی فنانسنگ تک بہتر رسائی: اس فیصلے سے چھوٹے برآمدی کاروباروں کو روزمرہ کاروباری ضروریات کے لیے سرمایہ حاصل کرنے، عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنے اور برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ مؤثر عمل درآمد: پاک ایکسِم بینک نے اسکیم میں شریک بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس فیصلے پر مکمل عمل درآمد اور مختص رقم کے مؤثر استعمال کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ آسان مالی سہولتیں + ٹیکس میں ریلیف = عالمی منڈیوں میں پاکستانی برآمدات کی بہتر مسابقت یہ خصوصی مالی سہولت مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں برآمد کنندگان کے لیے دی گئی مراعات کا تسلسل ہےجن میں برآمدی سرچارج کا خاتمہ، برآمدی آمدن پر ٹیکس اور سپر ٹیکس میں کمی، اور نمایاں طور پر کم شرح پر رعایتی برآمدی فنانسنگ کی فراہمی شامل ہیں۔ان اقدامات کا مقصد کاروباروں پر مالی اور ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنا، نقد رقوم کی دستیابی بہتر بنانا، نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا اور زیادہ سے زیادہ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو عالمی منڈیوں میں مسابقت کے قابل بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٫پالیسی وعدوں سے عملی اور براہِ راست معاونت کی جانب اہم پیش رفت یہ مربوط حکومتی اقدامات وزارتِ خزانہ کے کاروباروں کے لیے مالی وسائل تک رسائی بڑھانے (Access to Finance) اور برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے ایجنڈے کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔اس کا مقصد چھوٹے کاروباروں کو ترقی کے بہتر مواقع فراہم کرنا، پاکستان کی برآمدی بنیاد کو وسیع کرنا اور ذمہ دارانہ، جامع اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو مضبوط بنا کر پاکستان کے برآمدی مستقبل کو نئی سمت دینا ہے۔







