گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے مسلم لیگ کے صوبائی صدر انتخاب خان چمکنی کی وفد کے ہمراہ ملاقات

پاکستان مسلم لیگ خیبر پختونخوا کے صدر انتخاب خان چمکنی نے وفد کے ہمراہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی، جس میں صوبے کی مجموعی سیاسی، انتظامی اور عوامی صورتحال سمیت اہم صوبائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی کمی، مریضوں کو درپیش مشکلات اور صحت کے شعبے میں بہتری کی ضرورت پر خصوصی گفتگو …

پشاور۔ 07 نومبر (اے پی پی):پاکستان مسلم لیگ خیبر پختونخوا کے صدر انتخاب خان چمکنی نے وفد کے ہمراہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی، جس میں صوبے کی مجموعی سیاسی، انتظامی اور عوامی صورتحال سمیت اہم صوبائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی کمی، مریضوں کو درپیش مشکلات اور صحت کے شعبے میں بہتری کی ضرورت پر خصوصی گفتگو کی گئی۔

وفد نے اس بات پر زور دیا کہ ہسپتالوں میں ایم ٹی آئی (MTI) نظام پر ازسرنو نظرثانی کی جائے اور اس نظام کے تحت موجود خامیوں اور عوام کو درپیش مشکلات کا جائزہ لے کر اصلاحات متعارف کروائی جائیں۔ انتخاب چمکنی نے ہسپتالوں میں ٹھیکیداری نظام کے خاتمے اور صحت کے شعبے میں عوامی مفاد کو اولین ترجیح دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ صحت کی سہولیات صرف بڑے شہروں اور مرکزی ہسپتالوں تک محدود نہیں رہنی چاہئیں بلکہ عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری اور بروقت طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بنیادی مراکز صحت، دیہی مراکز صحت اور دیگر طبی اداروں کو فعال اور مستحکم بنایا جائے۔

ان تمام معاملات پر سنجیدگی سے غور کرکے مؤثر عملی اقدامات کیے جائیں۔ انکا کہنا تھا کہ صوبے کے تعلیمی نظام کی مجموعی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں بالخصوص جامعات کو درپیش انتظامی کمزوریوں اور مالی مشکلات کے حل کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جامعات کو مالی بحران سے نکالنے، انتظامی امور میں بہتری لانے، تعلیمی معیار برقرار رکھنے اور طلبہ کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کی جائے۔

زرعی شعبے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفد نے اس بات پر زور دیا کہ خیبر پختونخوا میں زراعت کی ترقی کے لیے روایتی طریقوں کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی، تکنیکی مہارتوں اور جدید زرعی اصولوں کو فروغ دیا جائے۔ کاشتکاروں کو جدید زرعی طریقوں، مشینری، بہتر بیجوں، پانی کے مؤثر استعمال اور جدید تحقیق سے مستفید کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ زرعی شعبے میں جہاں بھی انتظامی، تکنیکی یا پالیسی سطح پر کوتاہیاں موجود ہیں، ان کی نشاندہی کرکے ان کے حل کے لیے ٹھوس، جامع اور قابلِ عمل منصوبہ تشکیل دیا جائے تاکہ صوبے کی زرعی پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کی معاشی حالت بہتر بنائی جا سکے۔

وفد نے صوبے کو درپیش دیگر اہم مسائل اور عوامی مشکلات کے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے صرف اعلانات کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات، مؤثر نگرانی اور واضح حکمت عملی ضروری ہے۔ اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ خیبر پختونخوا کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری عبدالباسط، سینئر رہنما ریاض خان، علماء مشائخ ونگ کے صوبائی صدر علامہ مولانا محمد شعیب اور وکلاء ونگ کے صوبائی صدر کاشف ترکئی بھی وفد میں شامل تھے۔ ملاقات میں صوبے کی بہتری، عوامی مسائل کے حل، صحت، تعلیم، زراعت اور دیگر بنیادی شعبوں میں اصلاحات کے لیے مربوط حکمت عملی اور ٹھوس عملی اقدامات کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مزید خبریں