صحتمند معاشرہ، صحمند پاکستان تحریر: تبسم گل/امجد رشید دنیا کے مہذب معاشروں اور فلاحی ریاستوں کی تعمیر میں جہاں بنیادی انسانی حقوق کا نام آتا ہے وہاں صحت عامہ کی سہولیات کی فراہمی ریاستوں کی ترجیحی ذمہ داریوں میں شمار ہوتی ہے، جب بنیادی صحت اور صحت عامہ کی بات آئے تو صحتمند معاشرہ اورصحمند پاکستان کا تصور جو گزشتہ ادوار میں ایک خواب دکھائی دیتا تھا ایک حقیقت کا …
صحتمند معاشرہ، صحمند پاکستان

مزید خبریں
صحتمند معاشرہ، صحمند پاکستان
تحریر: تبسم گل/امجد رشید
دنیا کے مہذب معاشروں اور فلاحی ریاستوں کی تعمیر میں جہاں بنیادی انسانی حقوق کا نام آتا ہے وہاں صحت عامہ کی سہولیات کی فراہمی ریاستوں کی ترجیحی ذمہ داریوں میں شمار ہوتی ہے، جب بنیادی صحت اور صحت عامہ کی بات آئے تو صحتمند معاشرہ اورصحمند پاکستان کا تصور جو گزشتہ ادوار میں ایک خواب دکھائی دیتا تھا ایک حقیقت کا روپ دھارتا دکھائی دے رہا ہے اور اس کی داغ بیل موجودہ حکومت نے ”وزیراعظم قومی صحت پروگرام“ کے ذریعے ڈال دی ہے۔دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف طریقہ ہائے علاج کا ذکر بھی آتا ہے جن میں ایلوپیتھک طریقہ علاج سب سے زیادہ توجہ کا مرکز ہے اور طب کا شعبہ رفتہ رفتہ قدیمی طریقہ علاج میں شمار ہونے لگا ہے اور ریاستوں کی توجہ ایلوپیتھک طریقہ علاج پر ہے اور طب اور ہومیوپیتھی طریقہ علاج وہ توجہ کیوں نہیں حاصل کر سکے یہ ایک الگ بحث ہے لیکن صحتمند معاشروں کی بات کی جائے تو مختلف ترقی یافتہ ممالک پرنظر دوڑائیں تو ہمیں یہ ممالک صحتمند معاشروں کی تشکیل اور بیماریوں کے تدارک، روک تھام، علاج، آگاہی اور تعلیم و تحقیق کے شعبوں میں ترقی پذیر ممالک سے کہیں آگے ہیں لیکن ان تمام تر کوششوں کے باوجود یہ ممالک بھی مہلک اور متعدی امراض کی روک تھام میں مکمل کامیاب نہیں ہوئے تاہم جدید طریقہ علاج اور صحت کی سہولیات کی بہتری جیسے اقدامات میں ہم سے بہت آگے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کا ذکر کریں اور وطن عزیز پاکستان کے شعبہ صحت پر توجہ دوڑائیں تو ہمیں شاید مسائل کے انبار نظر آئیں گے، آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ جن مسائل نے تیزی سے جنم لیا ہے ان میں صحت کے مسائل سب سے زیادہ ہیں لیکن قیام پاکستان کے وقت وسائل کم ہونے کی وجہ سے اور بعدازاں جمہوری ادواراور پالیسیوں کے عدم تسلسل کے باعث آج بجٹ کا ایک خطیر حصہ صرف کرنے کے باوجود صحت کے مسائل اتنے بڑے ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے تاہم یہ ریاست اور ریاستی اداروں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔گو نا گوں مسائل کے باوجودموجودہ حکومت کی صحت کے شعبہ کی اصلاحات کا ذکر نہ کریں تو شاید ناانصافی ہو گی۔ موجودہ حکومت جہاں وفاق اور وفاق کے زیرانتظام علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی، ہیلتھ انشورنس، ہیلتھ کارڈز کے اجرائ، پولیو کی روک تھا، خسرہ یا خناق، تشنج، کالی کھانسی اور تپ دق کے علاج اور ویکسین کی فراہمی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے وہاں جان لیوا امراض کے علاج، تعلیم و تحقیق پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور اٹھارویں ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہو جانے کے بعد این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو ان کابھرپور حصہ فراہم کر رہی ہے تا کہ صوبوں میں بھی صحت کے شعبہ پر توجہ مرکوز کر کے بیماریوں کی روک تھام ممکن ہو سکے۔صحتمند معاشرہ، صحتمند قوم اور صحتمند پاکستان کے لئے انتہائی ناگزیر ہے اور بیماریوں کے تدارک اور روک تھام کے لئے علاج سے زیادہ آگاہی اور شعور بیداری اور اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنے، سینی ٹیشن بائی لاز پر عملدرآمد، نئے ہسپتالوں کی تعمیر اور پرانوں کی توسیع اور ان میں سہولیات کی بہتری جیسے وہ اقدامات ہیں جن میں میں سمجھتی ہوں کہ ماضی کے مقابلہ میں رواں دور حکومت میں شہریوں کو دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقات کے علاج معالجہ اور انہیں معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی کے پیش نظر قومی صحت پالیسی کا آغاز کیا ہے جس کے تحت وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ،پاکستان بیت المال، سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے مابین ایک معاہدہ پر عملدرآمد کا آغاز کیا گیا ہے جس کا بنیادی مقصد کم آمدنی والے افراد کو ان کی دہلیز پر طبی سہولیات کی فراہمی ہے، معاشرے کے غریب پسماندہ خاندانوں کی فلاح و بہبوداور اچھی صحت کی جانب ایک قدم اٹھاتے ہوتے قومی سطح پر زچہ و بچہ کی صحت کے دس نکاتی قومی لائحہ عمل مرتب کیا گیا ہے جبکہ اس کے علاوہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا اور جان بچانے والی ادویات کی وافر مقدار میں فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔ صوبوں کو بشمول وفاق کے زیرانتظام علاقوں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں ایمبولینسز کی فراہمی صحت کے شعبہ کے لئے خصوصی فنڈز کا اجراءاور ایمرجنسی کی صورت میں امداد، علاج معالجہ کی فراہمی شامل ہیں ان اقدامات میں تپ دق کے علاج و معالجہ کے لئے 30لاکھ افراد کو سہولیات کی فراہمی 13سو طبی مراکز میں تپ دق کے علاج معالجے کی سہولت کا آغاز، ذیابیطس کی روک تھام کے لئے ڈنمارک کی ادویہ ساز کمپنیوں کے ساتھ معاہدے اور قومی ایکشن پلان کی تشکیل جیسے قابل ذکر اقدامات سے پاکستان میں ذیابیطس کے 70لاکھ سے زائد مریضوں کو علاج معالجہ تک رسائی بہتر ہو گی جہاں جان لیوا امراض کا ذکر آتا ہے وہاں آج کل ہیپاٹائٹس کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ ہیپاٹائٹس کا مہنگا اور طویل علاج تھا لیکن موجودہ دور میں اس ضمن میں بھی ایک تاریخی پیش رفت ہوئی ہے اور ہیپاٹائٹس کی دوا کی مقامی سطح پر تیاری کی منظوری دی گئی ہے اور جو دوا امریکہ جیسے ملک میں لاکھوں روپے میں دستیاب ہے وہ پاکستان میں صرف 5868روپے میں 28گولیاں دستیاب ہیں، پاکستان کو پولیو فری کرنے کی جانب عالمی ادارہ صحت اور دیگرامدادی اداروں کے تعاون سے پیش رفت ہو رہی ہے اور امید ہے کہ جلد پاکستان سے پولیو وائرس کا خاتمہ ہو جائے گا جو فاٹا سمیت ملک بھر کے دور افتادہ علاقوں میں بچوں تک پولیو ویکسین باقاعدگی کے ساتھ فراہمی اور معیاری ویکسین اور اس کی محفوظ نقل و حمل کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات ہیں۔ موجودہ حکومت نے صحت کارڈ کے اجراءکے ذریعے بھی ملک کے نادار اور پسماندہ شہریوں کو مفت اور معیاری علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی کے لئے اقدامات کئے ہیں جس سے لاکھوں لوگ مستفید ہورہے ہیں پاکستان کے علاوہ مظفر آباد کے 82ہزار افراد کو بھی یہ سہولت فراہم کی گئی ہے جبکہ کوٹلی کے 79ہزار خاندانوں کو اس سہولت سے استفادہ کے لئے جلد اعلان کیا جائے گا۔ وزےر قومی صحت محترمہ سائرہ افضل تارڑ نے اسلام آباد ،مظفرآباد اور دیگر ملک کے دور افتادہ علاقوں کے لئے صحت کارڈ کے اجراءکے بعد وزیر اعظم محمد نواز شریف کی جانب سے بلوچستان کے پسماندہ اضلاع کے لئے ہیلتھ پروگرام کا اجراءکے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ31 دسمبر کو وزےر اعظم کے اس پروگرام کے افتتاح کے بعد مجھے ےہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اس پروگرام پر اسلام آباد اور مظفر آباد مےں زور و شور سے اس کی اصل روح کے مطابق عملدرآمد جاری ہے۔اب تک اسلام آباد مےں پانچ ہزار تےن سو چودہ (5314 ) مرےض اس پروگرام کے تحت ہسپتالوں مےں داخل ہوئے ہےں جن کا علاج کےا گےا ہے ےا جاری ہے۔ اس پروگرام کی بھر پور انداز مےں مانےٹرنگ کی جا رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ہر وہ سہولت جس کا اس پروگرام کے تحت وعدہ کےا گےاہے وہ پروگرام سے استفادہ کررنے والے افراد اور خاندانوں کو میسر آئے۔ اس پروگرام مےں سات جان لےوا بیماریاں جن کا علاج ہوگا ان میں بائی پاس،انجیو پلاسٹی، جل جانے والے افراد، حادثات، کینسر(کیموتھراپی،ریڈیو تھراپی اور سرجری) ذیابیطس کے مرےضوں کے لےے انسولےن، جگر اور گردے کے امراض اورڈائلاسز،ہیپاٹائٹس اور ایچ آئی وی کی پےچےدگےاں شامل ہیں۔وفاقی وزیر نے زور دیکر کہاکہ صوبہ بلوچستان کی ترقی کے بغےر پاکستان کبھی ترقی نہےں کر سکتا، غےور بلوچ بھائےوں نے ہمےشہ پاکستان کے لےے قربانی دی اور ہمےں ےقےن ہے کہ اس پروگرام کے افتتاح کے ساتھ ہی ہمارے اس ہر دل عزےز صوبے مےں صحت کے لحاظ سے اےک انقلاب برپا ہو گا۔بلوچستان میںپرائم منسٹر نےشنل ہےلتھ پروگرام سے کوئٹہ کے 76,000 خاندان مستفید ہوں گے اور جلد ہی لورالائی، لسبےلا اور کےچ کے تقرےباً 167,000 خاندانوں کو ےہ سہولت مےسر آئے گی۔ہمارا عزم ہے کہ صحت کی مساوی سہولےات کی فراہمی کے بغےر کوئی بھی قوم ترقی نہےں کر سکتی۔ لہذا وزےر اعظم کے وژن کے تحت توانائی اور انفراسٹرکچر کے بڑے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ صحت عامہ اور تعلےم کے شعبوں مےں بھی اہم اقدامات کئے جا رہے ہےں۔ پرائم منسٹر نےشنل ہےلتھ پروگرام کا بنیادی مقصد کم آمدنی والے عوام کو صحت کی معےاری سہولےات کی فراہمی کو ےقےنی بنانا ہے اور ان کو مذےد غربت کے اندھےروں مےں جانے سے بچانا ہے جس کی وجہ علاج معالجہ پر آنے والے اخراجات ہےں۔مسلم لےگ ن کی حکومت نے اپنے منشور مےں کئے گئے اےک اور وعدے کو حقےقت کا روپ دے دےا ہے اور ےہ ےقےنا غرےب اور نادار مرےضوں کے لےے اےک خوشی کا لمحہ ہے۔ اس کے تحت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے گھرانوں کو علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی ۔ سائرہ افضل تارڑ نے بلوچستان کی قےادت کو ےقےن دلایاکہ اس پروگرام پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کے ہر مرحلہ مےں آپ کے ساتھ ہےںاس پروگرام کے ثمرات عوام تک پہنچائےں گے۔ طبی سہولیات کی فراہمی ہو یا دیگر بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کے ذریعے ملک کو فلاحی ریاست بنانے کا خواب یہ ریاست اور ریاستی اداروں کی سنجیدہ کوششوں سے بھی شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔








