زینب زیادتی و قتل کیس عدالت نے مرکزی ملزم عمران کو 4 بار سزائے موت ،10 لاکھ جرمانے کیساتھ عمر قید کی سزا کا حکم سنادیا

لاہور۔17 فروری(اے پی پی )قصور میں ننھی بچی زینب زیادتی و قتل کیس اپنی نو عیت کا اہم ترین کیس ثابت ہوا جس کے بارے میں لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی نوٹس لیا اور ٹرائل کورٹ کو سات روز کے اندر فیصلہ کرنے کا پابند کر دیا ۔ روزانہ کی بنیاد پر کیس کی کئی کئی گھنٹے سماعت ہوتی رہی بلکہ اس کیس کی تفتیش کے لیئے جے …

لاہور۔17 فروری(اے پی پی )قصور میں ننھی بچی زینب زیادتی و قتل کیس اپنی نو عیت کا اہم ترین کیس ثابت ہوا جس کے بارے میں لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی نوٹس لیا اور ٹرائل کورٹ کو سات روز کے اندر فیصلہ کرنے کا پابند کر دیا ۔ روزانہ کی بنیاد پر کیس کی کئی کئی گھنٹے سماعت ہوتی رہی بلکہ اس کیس کی تفتیش کے لیئے جے آئی ٹی بنائی گئی جس نے برق رفتاری سے اپنا کام احسن طریقے سے انجام دیا ۔ تفصیلات کے مطابق 23 جنوری کو زینب کے قاتل کو قصور قبرستان سے گرفتار کیا گیا۔24 جنوری کو قاتل کو انسداددہشت گردی کی عدالت نمبر 1 میں حصول ریمانڈ کےلیے پیش کیا گیا۔انسداد دہشت گردی کے ایڈمن جج سجاد احمد نے کیس کی سماعت کی۔عدالت نے ملزم کو 14 روزہ ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے کیا۔24 تاریخ کو ملزم کا پہلا ویڈیو بیان منظرعام پر آیا،ملزم نے ویڈیو میں بتایا کہ وہ بچی کو کیسے لےکر گیا اور کیا کیا۔25 تاریخ کو لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا حکم دیا گیا۔عدالتی احکامات کے مطابق 7 دن کے اندر ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیا گیا۔25 جنوری کو زینب کے والد کی جانب سے آفتاب باجوہ نے کیس لڑنے کا اعلان کیا۔ سپریم کورٹ بار کے سابق سیکرٹری ماہر ضابطہ فوجداری قانون آفتاب باجوہ نے زینب کیس کی فیس 10 روپے مقرر کی ۔26 جنوری کو زینب کے قاتل کی فوٹےج لیک ہونے پر سی آئی اے کے اہلکاروں کےخلاف مقدمہ درج ہوا،28 جنوری کو زینب قتل کیس کی سماعت سپریم کورٹ رجسٹری میں ہوئی۔عدالت نے پراسکیوٹر جنرل کو زینب کیس میں عدالتی معاونت کا حکم دیا۔