اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی،ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور پاکستان امریکا کو اپنی برآمدات میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کا خواہاں ہے ،امریکا زراعت کے شعبے میں پاکستان کو اہم ٹیکنالوجی فراہم کرکے تعاون اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مدد کرسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں …
پاکستان امریکا کو اپنی برآمدات میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کا خواہاں ہے ، وفاقی وزیراحسن اقبال کا وائس آف امر یکا کو انٹرویو
اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی،ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور پاکستان امریکا کو اپنی برآمدات میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کا خواہاں ہے ،امریکا زراعت کے شعبے میں پاکستان کو اہم ٹیکنالوجی فراہم کرکے تعاون اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مدد کرسکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے وائس آف امریکا کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ ضمنی انتخابات میں شکست کی وجہ آئی ایم ایف سےمعاہدے کے لئے ضروری سخت معاشی اقدامات تھے، پاکستان کی اتحادی حکومت امریکا کے ساتھ ماضی کی طرح محض سکیورٹی امور پر نہیں بلکہ اقتصادی تعاون اور باہمی احترام کی بنیاد پر مضبوط تعلقات استوار کرنے کی خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری شکست کے بارے میں تجزیہ کرتے ہوئے یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ یہ وہ نشستیں ہیں جو ہم پہلے بھی عام انتخابات میں ہارے ہوئےتھے البتہ اگر ہمیں آئی ایم ایف کی وجہ سے سخت معاشی اقدامات نہ کرنے پڑتے تو ہم ان 17 میں سے بھی 15سیٹیں جیت سکتے تھے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر ان کی حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرتی تو آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل پر عملدرآمدمیں مشکل ہو گی کیونکہ عبوری حکومت کے پاس فیصلہ سازی کے لئے درکار آئینی قوت نہیں ہوتی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کو ون پارٹی سٹیٹ بنانا چاہتے تھے، وہ حزب اختلاف کو ختم کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ ریاستی اداروں پر قابض ہو جائیں، یہ سب ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ ان کی پارٹی باقی اتحادی جماعتوں کے ساتھ عدم اعتماد کی قرارداد پارلیمنٹ کے اندر لے کر آئی تھی اور ان کی جماعت ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ کےنظریئے پر یقین رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ آزاد ہے، ہم آزادی اظہار کا احترام کرتے ہیں۔احسن اقبال نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے حکومت کی تبدیلی کی مبینہ سازش کے الزامات کے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ عمران خان پاکستان کی نفسیاتی کیفیت کو تباہ کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں اتحادی پارٹیوں کی حکومت امریکا سے وسیع البنیاد تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے،ہماری توجہ اس بات پر ہے کہ ہم امریکا سے تعلقات کو سکیورٹی کی بجائے اقتصادی اور ترقیاتی شعبے میں استعمال کریں اس سے ان میں ایک مستقل مزاجی استحکام اور تسلسل رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے ، پاکستان کو کوئی بھی ڈکٹیشن نہیں دے سکتا۔ انہوں نےکہا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا معاہد ہ حتمی ہے اور پاکستان کو اگست میں ایک بلین ڈالر کی قسط جاری ہو جائے گی۔موجودہ حکومت اقتصادی اصلاحات پر عمل کرنے کے لئے کمر بستہ ہےاحسن اقبال نے کہا کہ امریکا ، چین، یورپی یونین اور خلیجی ممالک سے قریبی تعلقات کو آگے بڑھاناہماری خارجہ پالیسی میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان میں سے کسی ایک سے بھی بہتر تعلقات کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ دوسرے کسی ملک سے تعلقات میں کمی آگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور پاکستان کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ امریکا کو اپنی برآمدات میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرے۔احسن اقبال نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں اتحادی حکومت نے ” یو ایس پاکستان نالج کوریڈور” پروگرام بحال کردیا ہے جس کے تحت پاکستان کے ایک ہزار طالب علم امریکی یونیورسٹیوں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کریں گے ۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ امریکا زراعت کے شعبے میں پاکستان کو اہم ٹیکنالوجی فراہم کرکے تعاون کر سکتا ہے اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں بھی مدد کرسکتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں پاکستان کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کی سب سے بڑی فری لانسنگ منڈیوں میں سے ایک ہے اور آئی ایم ایف کے معاہدے کے بعد پاکستان امید کرتا ہے کہ امریکی اور بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو یوکرین کی جنگ کے بعد ایک بحرانی کیفیت کا سامنا ہے اور اتحادی پارٹیوں کی حکومت میں ملک کے تمام حصوں سے لوگ شامل ہیں اور یہ چیز پاکستان کے استحکام کے لئے ایک بڑا موقع فراہم کرتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کے قومی فیصلے اتحادی حکومت میں شامل پارٹیوں کی مشاورت سے ہوتے ہیں









