اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے 15 سال پرانے قتل کے مقدمے میں استغاثہ کی ناکامی اور شواہد میں سنگین تضادات کی بنیاد پر تین ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا ۔ عدالت عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کا 9 جنوری 2017ء کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا۔تفصیلی فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ نے منیر احمد، ذوالفقار عرف کالا اور نصیر احمد …
سپریم کورٹ نے 15 سال بعد قتل کے تین ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے 15 سال پرانے قتل کے مقدمے میں استغاثہ کی ناکامی اور شواہد میں سنگین تضادات کی بنیاد پر تین ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا ۔ عدالت عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کا 9 جنوری 2017ء کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا۔تفصیلی فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ نے منیر احمد، ذوالفقار عرف کالا اور نصیر احمد کو غلام سرور کے قتل کے مقدمے سے بری کر دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزام بلاشبہ ثابت کرنے میں ناکام رہا جبکہ گواہوں کی موقع واردات پر موجودگی بھی ثابت نہ ہو سکی۔عدالتی فیصلے میں بتایا گیا کہ قتل کا واقعہ 17 دسمبر 2010ء کو ضلع لودھراں میں پیش آیا، جس میں مقتول غلام سرور کو متعدد فائر کے زخم آئے اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔
استغاثہ کے مطابق تینوں ملزمان موقع پر موجود تھے اور انہوں نے مشترکہ نیت سے فائرنگ کی تھی، جس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ٹرائل کورٹ نے 24 ستمبر 2011ء کو ملزمان کو قتل کا مرتکب قرار دیتے ہوئے دو ملزمان کو سزائے موت جبکہ ایک ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے 9 جنوری 2017ء کو عمر قید پانے والے ملزم کی سزا برقرار رکھی جبکہ دو ملزمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ گواہوں کے بیانات میں سنگین تضادات پائے گئے اور انہیں اتفاقی گواہ قرار دیا گیا۔ عدالت کے مطابق فائرنگ کی تفصیل انسانی طور پر مشاہدہ کرنا ممکن نہیں تھی جبکہ میڈیکل رپورٹ بھی عینی شہادت کی مکمل تائید نہیں کرتی تھی۔عدالت عظمیٰ نے مزید قرار دیا کہ اسلحہ اور خالی خولوں کی برآمدگی ناقابل بھروسہ ہے، اس لیے ملزمان کو شک کا فائدہ دیا جانا قانون کے عین مطابق ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی جبکہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے دس صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔








