اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق اہم مقدمات کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی۔ مقدمات کی سماعت چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی جس میں جسٹس حسن اظہر رضوی بھی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ شامل تھے۔سماعت کے دوران مختلف ایکسپورٹرز کمپنیوں کے وکیل راشد انور نے اپنے دلائل مکمل …
وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس کیسز کی سماعت، وکلا ء کے دلائل مکمل، سماعت منگل تک ملتوی
اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق اہم مقدمات کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی۔ مقدمات کی سماعت چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی جس میں جسٹس حسن اظہر رضوی بھی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ شامل تھے۔سماعت کے دوران مختلف ایکسپورٹرز کمپنیوں کے وکیل راشد انور نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے کہ 15 فیصد سے کم اور 55 فیصد سے زیادہ ٹیکس وصول نہیں کیا جا سکتا تاہم اس وقت کاروباری طبقے سے 55 فیصد سے زائد ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔
دوران سماعت انہوں نے کمرہ عدالت میں گھڑی نہ ہونے پر شکوہ بھی کیا اور کہا کہ وقت کا درست اندازہ نہیں ہو پا رہا۔ اس پر چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ کچھ انتظامی امور ابھی مکمل نہیں ہوئے تاہم جلد بہتری آ جائے گی۔ وکیل کی جانب سے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت کی سہولت فراہم کرنے کی استدعا بھی کی گئی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ فی الوقت یہ ممکن نہیں تاہم جلد انتظام کر لیا جائے گا۔
بعد ازاں مختلف تمباکو کمپنیوں کے وکیل اعجاز احمد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک سگریٹ کی ڈبی اگر 130 روپے میں فروخت ہو رہی ہے تو اس میں سے 98 روپے ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں جبکہ 48 روپے کے سگریٹ پیکٹ پر 40 روپے ٹیکس عائد ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے تمام سیکٹرز پر یکساں ٹیکس عائد نہیں کیا بلکہ کچھ مخصوص شعبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اس موقع پر ایف بی آر کی وکیل عاصمہ حامد نے عدالت کو بتایا کہ تمباکو کمپنیوں کی جانب سے پیش کئے گئے بعض اعداد و شمار ایف بی آر کے ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتے۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ یہ حکومت کی صوابدید ہے کہ وہ کس سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرے یا نکال دے جس پر وکیل اعجاز احمد نے اتفاق کیا تاہم کہا کہ ٹیکس کی درجہ بندی کاروبار کے بجائے آمدن کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر صرف آمدن کی بنیاد پر ٹیکس عائد کیا جائے تو پھر کسی قسم کی کلاسیفیکیشن ممکن نہیں رہے گی۔سماعت کے دوران سگریٹ کی سمگلنگ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ وکیل اعجاز احمد نے کہا کہ بیرون ملک سے سمگل ہو کر آنے والے سگریٹ مقامی سگریٹ کے مقابلے میں سستے ہوتے ہیں۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ امپورٹ ہونے والے سگریٹ کا تو سراغ لگایا جا سکتا ہوگا۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے سوال کیا کہ کیا پاکستان میں قانونی طور پر سگریٹ امپورٹ کرنے کی اجازت ہے؟ جس پر وکیل اعجاز احمد نے جواب دیا کہ اجازت تو موجود ہے لیکن ان کے علم کے مطابق اب تک سگریٹ امپورٹ نہیں ہوئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ عدالت کے سوالات سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ بنچ کے کسی رکن کا تعلق سگریٹ نوشی سے نہیں۔آخر میں تمباکو کمپنیوں کے وکیل اعجاز احمد اور پرائیویٹ کمپنیوں کے وکیل عابد شعبان نے بھی اپنے دلائل مکمل کر لئے۔ عدالت نے مزید سماعت منگل تک ملتوی کر دی۔









