پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں برف باری، برف پوش پہاڑ، منجمد جھیلیں ، سفید چادر اوڑھے جنت نذیر وادیاں سیاحوں کو دعوت نظارہ دے رہی ہیں، رپورٹ

اسلام آباد۔14دسمبر (اے پی پی):پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں برف باری سے پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھ لی، منجمد جھیلیں اور برف سے ڈھکی وادیا ں سیاحوں کو دعوت نظرہ دے رہی ہیں، دلکش مناظر کے دلدادہ سیاح قدرت کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہونے کیلئے سیاحتی مقامات کی جانب کھنچے چلے آ رہے ہیں، مقامی و غیر ملکی سیاحوں کی کثیر تعداد شمالی علاقوں میں پہنچ گئی۔ …

اسلام آباد۔14دسمبر (اے پی پی):پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں برف باری سے پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھ لی، منجمد جھیلیں اور برف سے ڈھکی وادیا ں سیاحوں کو دعوت نظرہ دے رہی ہیں، دلکش مناظر کے دلدادہ سیاح قدرت کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہونے کیلئے سیاحتی مقامات کی جانب کھنچے چلے آ رہے ہیں، مقامی و غیر ملکی سیاحوں کی کثیر تعداد شمالی علاقوں میں پہنچ گئی۔ موسم سرما کی پہلی برف باری نے پورے منظر نامہ کو سفید کر دیا ہے اور خوبصورت پہاڑوں اور وادیوں کو جادوئی مناظر میں بدل دیا ہے۔

مری میں ایک ہوٹل کے مالک نے کہا ہے کہ برف پوش پہاڑ، جمی ہوئی جھیلیں اور پُرسکون وادیاں سیاحوں کے لیے ایک بڑی کشش بن گئی ہیں، جو پاکستانی سردیوں کی دلکش خوبصورتی کا تجربہ کرنے کے لیے اس خطے کا رخ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برف باری کے بعد ان علاقوں میں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی)کے حکام نے کہا ہے کہ برفباری نے ان علاقوں کے قدرتی حسن میں اضافہ کیا ہے، جس سے یہ سیاحوں کے لیے ان مقامات کی کشش مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کے مقامی لوگ بھی سیاحوں کی آمد کو دیکھ کر بہت پرجوش ہیں،جس سے ان کی معیشت میں اضافہ ہوا ہے۔

سوات کے ایک اور مقامی رہائشی نے کہا کہ ہم سیاحوں کو اپنے علاقے کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے دیکھ کر خوش ہیں اور ہم انہیں بہترین ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ پی ٹی ڈی سی کی جانب سے سیاحوں کو ہدائت کی گئی ہے کہ ان علاقوں میں سفر کرتے وقت احتیاط برتیں، خاص طور پر شدید برف باری اور منجمد درجہ حرارت کے پیش نظر محتاط رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان علاقوں میں بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں تاکہ سیاحوں کے لیے محفوظ اور آرام دہ قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔