وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر قوم کو مبارکباد

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے،معاہدہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور مسلم ممالک کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا

اسلام آباد۔9اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے،معاہدہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور مسلم ممالک کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔اتوار کوپی ٹی وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور خطے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی غیر معمولی اہمیت ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ یہ معاہدہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور وژن کا عکاس ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ اجتماعی سلامتی کے استحکام، امن و استحکام کے فروغ اور ابھرتے ہوئے جغرافیائی سیاسی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے تینوں ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی اور علاقائی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہےجس کے باعث مسلم ممالک کے درمیان باہمی اعتماد، تعاون اور مربوط حکمت عملیوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تین اہم مسلم ممالک ہیں جو خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کیونکہ اس کی اہمیت صرف دفاعی شعبے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے نتیجے میں مسلم ممالک کے درمیان سیاسی،اقتصادی، سفارتی اور تزویراتی تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، مذاکرات اور تعاون کا حامی رہا ہے اور اس کا یقین ہے کہ پائیدار امن اجتماعی کوششوں ہی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ خطے میں زیادہ امن اور استحکام تجارت، سرمایہ کاری، رابطوں اوراقتصادی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے گاجس سے خطے کے عوام کے لئے خوشحالی کے نئے راستے کھلیں گے۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مضبوط اور تاریخی تعلقات نہ صرف تینوں ممالک کے لیے اہم ہیں بلکہ مسلم امہ کے لیے بھی وسیع تر اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ تعاون کے نئے دروازے کھولنے اور مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے زیادہ مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ معاہدہ مسلم دنیا میں اتحاد،یکجہتی اور اجتماعی ذمہ داری کا مثبت پیغام دیتا ہے۔مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعلقات مزید مضبوط بنائیں اور تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی نظام میں امن، استحکام، اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ ایجنڈے پر مل کر کام کریں۔ وفاقی وزیر نےکہا کہ معاہدے سے خطے میں پاکستان کی تزویراتی اہمیت،دفاعی تعاون اور سفارتی کردار مزید مضبوط ہوگا جبکہ دوست اور برادر ممالک کے ساتھ مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نےکہا کہ امن و استحکام پائیدار اقتصادی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہیں جبکہ علاقائی تعاون کے ذریعے چیلنجز کو ترقی کے مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔دریں اثناء دیگر وفاقی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ نے بھی پی ٹی وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں امن و استحکام اور مسلم ممالک کے اتحاد کے لیے اہم اور تاریخی پیش رفت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ معاہدے سے تینوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون مزید مضبوط ہوگا جبکہ اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی،اقتصادی اور سفارتی روابط کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ معاہدے سے مسلم دنیا میں پاکستان کی اہمیت مزید بڑھے گی اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اجتماعی کوششوں کو تقویت ملے گی۔

مزید خبریں