، ایف آئی اے نے پروٹیکٹوریٹ آف ایمیگرنٹس میں فراڈ بے نقاب کردیا ، 2 سرکاری اہلکاروں سمیت 5 ملزمان گرفتار
، ایف آئی اے نے پروٹیکٹوریٹ آف ایمیگرنٹس میں فراڈ بے نقاب کردیا ، 2 سرکاری اہلکاروں سمیت 5 ملزمان گرفتار

مزید خبریں
اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے راولپنڈی میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے پروٹیکٹوریٹ آف ایمیگرنٹس آفس میں بدعنوانی اور جعلی ورک پرمٹس کے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔ چھاپہ مار کارروائی کے دوران 2 سرکاری اہلکاروں اور 3 نجی ایجنٹوں کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ایف آئی اے کو اطلاع ملی تھی کہ رحمان آباد راولپنڈی میں واقع پروٹیکٹوریٹ آف ایمیگرنٹس آفس میں سادہ لوح شہریوں سے بیرون ملک ورک پرمٹ کے نام پر بھاری رقوم بٹوری جا رہی ہیں۔ اس پر اینٹی کرپشن سرکل نے فوری چھاپہ مار کر 3 ایجنٹوں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔دورانِ تفتیش انکشاف ہوا کہ نجی ایجنٹس اور پروٹیکٹوریٹ آفس کا عملہ مل کر یہ غیر قانونی دھندا چلا رہے تھے۔ ایجنٹس شہریوں سے وصول کی گئی رقوم میں سے سرکاری اہلکاروں کو رشوت دیتے تھے، جس کے بدلے ان کا کام ترجیحی بنیادوں پر کیا جاتا تھا۔ گرفتار ایجنٹوں کی نشاندہی پر ایف آئی اے نے پروٹیکٹوریٹ آفس کے ڈیٹا انٹری آپریٹر مرتضیٰ علی (بی ایس-15) اور اپر ڈویژن کلرک وقاص (بی ایس-11) کو بھی گرفتار کر لیا۔ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان کے موبائل فونز کی ابتدائی فرانزک جانچ سے اس مجرمانہ نیٹ ورک کے پختہ ثبوت ملے ہیں۔ ملزمان کے فونز سے یورپ، برطانیہ، گلف اور افریقی ممالک کے ویزوں کی تصاویر اور سرکاری اہلکاروں کے ساتھ کی گئی بات چیت کے وائس نوٹس برآمد ہوئے ہیں، جو کیس میں بطور شواہد شامل کر لیے گئے ہیں ۔ ملزمان کے خلاف ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل میں مقدمہ نمبر 40/2026 درج کر لیا گیا ہے، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 420، 468، 109 اور پریوینشن آف کرپشن ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) شامل ہیں۔ایف آئی اے حکام نے واضح کیا ہے کہ اداروں سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ‘زیرو ٹالرینس’ کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے اور اس کیس میں ملوث دیگر کرداروں کو سامنے لانے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔







