اسلام آباد۔14نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہاہے کہ آئندہ سال سے جو صوبے اپنے سالانہ سروے جمع نہیں کروائیں گے انہیں ٹرافی ہنٹنگ کا کوئی کوٹہ الاٹ نہیں کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں سائٹس مینجمنٹ اتھارٹی پاکستان کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں شکار کے لیے ٹرافی کوٹہ 2025–2026 …
آئندہ سال سے سالانہ سروے جمع نہ کروانے والے صوبوں کو ٹرافی ہنٹنگ کا کوئی کوٹہ الاٹ نہ کرنے کا اعلان

مزید خبریں
اسلام آباد۔14نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہاہے کہ آئندہ سال سے جو صوبے اپنے سالانہ سروے جمع نہیں کروائیں گے انہیں ٹرافی ہنٹنگ کا کوئی کوٹہ الاٹ نہیں کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں سائٹس مینجمنٹ اتھارٹی پاکستان کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں شکار کے لیے ٹرافی کوٹہ 2025–2026 کے لیے تجاویز کا جائزہ لیا گیا اور اس سلسلے میں حکمت عملی مرتب کی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے زور دیا کہ ٹرافی ہنٹنگ کوٹہ کی منظوری سائٹس کے تحفظاتی اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے اور کسی بھی جنس کی کل آبادی کے 2 فیصد سے زیادہ کوٹہ الاٹ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس بات پر خاص زور دیا کہ تمام فیصلے باقاعدہ اور سائنسی بنیادوں پر کی جانے والی آبادیاتی سرویز کی روشنی میں کیے جائیں تاکہ جنگلی حیات کے تحفظ اور پائیدار انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس میں اس امر پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی کہ صرف آبادی کی تعداد ہی نہیں بلکہ مختلف علاقوں میں موجود اقسام کی سماجی ساخت، گروہی نظام اور تولیدی حرکیات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ وفاقی وزیر نے نشاندہی کی کہ سماجی ڈھانچے میں بے احتیاط مداخلت افزائش، گروہی استحکام اور آبادی کے پھیلائو پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ صوبائی وائلڈ لائف محکموں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ تحقیقی منصوبہ تیار کیا جائے جس میں آبادی اور سماجی ساخت دونوں کا مطالعہ شامل ہو اور ٹرافی ہنٹنگ کے لیے سائنسی بنیادوں پر بہترین طریقہ کار مرتب کیے جائیں۔ مصدق ملک نے مزید ہدایت کی کہ حالیہ سرویز کے تجزیاتی اعداد و شمار دو روز کے اندر جمع کرائے جائیں، جن صوبوں نے رواں سال کے سرویز ابھی تک جمع نہیں کروائے، انہیں عارضی طور پر گذشتہ سال کا کوٹہ برقرار رکھا جائے گا، آئندہ سال سے جو صوبے اپنے سالانہ سروے جمع نہیں کروائیں گے انہیں ٹرافی ہنٹنگ کا کوئی کوٹہ الاٹ نہیں کیا جائے گا۔
یہ اقدام جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔اجلاس میں پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے وائلڈ لائف اور فاریسٹ ڈیپارٹمنٹس کے نمائندگان کے ساتھ ساتھ زوآلوجیکل سروے آف پاکستان کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔








