آئندہ مالی سال 27-2026 کے لئے مجموعی قومی ترقیاتی پروگرام کا حجم 3675 ارب روپے مقرر، صوبوں کے لیے 2224 ارب اور وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے 1000 ارب روپے مختص

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے لیے مجموعی قومی ترقیاتی پروگرام (نیشنل پی ایس ڈی پی) کا مجموعی حجم 3675 ارب روپے مقرر کیا ہے جس میں صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے 2224 ارب روپے کی خطیر رقم جبکہ وفاقی ترقیاتی پروگرام (وفاقی پی ایس ڈی پی) کے لیے 1000 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے لیے مجموعی قومی ترقیاتی پروگرام (نیشنل پی ایس ڈی پی) کا مجموعی حجم 3675 ارب روپے مقرر کیا ہے جس میں صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے 2224 ارب روپے کی خطیر رقم جبکہ وفاقی ترقیاتی پروگرام (وفاقی پی ایس ڈی پی) کے لیے 1000 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جاری مالی سال 26-2025 کے دوران مجموعی قومی ترقیاتی پروگرام کا ترمیمی حجم 4113 ارب 23 کروڑ 23 لاکھ روپے رہا ہے جبکہ وفاقی پی ایس ڈی پی کا حجم 820 ارب 50 کروڑ 60 لاکھ روپے تھا۔

جمعہ کو جاری نیشنل ڈویلپمنٹ پروگرام 27-2026 کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کے لیے مجموعی طور پر 682 ارب 48 کروڑ 64 لاکھ روپے اور سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کے لیے 451 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔اسی طرح وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے ترقیاتی بجٹ کے مطابق سرمایہ کاری بورڈ (بورڈ آف انویسٹمنٹ) کے لیے آئندہ مالی سال میں 760.950 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جو جاری مالی سال میں 200.252 ملین روپے ہیں۔

کابینہ ڈویژن کے لیے 64 ارب 8 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ جاری مالی سال کا ترمیمی بجٹ 63 ارب 23 کروڑ 69 لاکھ روپے تھا۔ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈویژن کے لیے 2 ارب 47 کروڑ 77 لاکھ روپے، وزارت تجارت کے لیے 89 ملین روپے، مواصلات ڈویژن (این ایچ اے کے علاوہ) کے لیے 194.540 ملین روپے، ڈیفنس ڈویژن کے لیے 10 ارب 90 کروڑ 25 لاکھ روپے، دفاعی پیداوار ڈویژن کے لیے 979.840 ملین روپے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے لیے 1 ارب 78 کروڑ 69 لاکھ روپے، وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈویژن کے لیے 36 ارب 31 کروڑ 20 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں (جس میں وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے لیے 10 ارب 90 کروڑ روپے شامل ہیں) جبکہ فنانس ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 1 ارب 44 کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔

صوبوں اور خصوصی علاقوں (پروونسز اینڈ سپیشل ایریاز) کے لیے مجموعی طور پر 233 ارب 38 کروڑ 58 لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جس میں صوبائی منصوبوں کے لیے 88 ارب 28 کروڑ 61 لاکھ روپے، فاٹا کے انضمام شدہ اضلاع کے لیے 56 ارب 7 کروڑ 64 لاکھ روپے اور خصوصی علاقوں (آزاد کشمیر و گلگت بلتستان) کے لیے 89 ارب 2 کروڑ 33 لاکھ روپے شامل ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے لیے 46 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے لیے 2 ارب 20 کروڑ روپے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ہائوسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کے لیے 16 ارب 39 کروڑ 47 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں صنعت و پیداوار ڈویژن کے لیے 6 ارب 65 کروڑ 76 لاکھ روپے، اطلاعات و نشریات ڈویژن کے لیے 3 ارب 1 کروڑ 89 لاکھ روپے، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن ڈویژن کے لیے 19 ارب 58 کروڑ روپے (بشمول وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے لیے 3 ارب روپے)، بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کے لیے 1 ارب 85 کروڑ 12 لاکھ روپے، داخلہ اور نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن کے لیے 21 ارب 82 کروڑ 49 لاکھ روپے اور امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران ڈویژن کے لیے 62 کروڑ 30 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ قانون و انصاف ڈویژن کے لیے 2 ارب 40 کروڑ 30 لاکھ روپے، سمندری امور ڈویژن کے لیے 1 ارب 78 کروڑ روپے، نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ ڈویژن کے لیے 4 ارب 18 کروڑ 30 لاکھ روپے اور نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن کے لیے 16 ارب 6 کروڑ 45 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

قومی ورثہ اور ثقافت ڈویژن کے لیے 44 کروڑ 50 لاکھ روپے، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے لیے 1 ارب 33 کروڑ 50 لاکھ روپے اور پٹرولیم ڈویژن کے لیے 31 کروڑ 18 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پلاننگ، ڈویلپمنٹ اینڈ سپیشل انیشیٹوز ڈویژن کے لیے مجموعی طور پر 2 ارب 82 کروڑ 13 لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جبکہ اس کے تحت خصوصی اقدامات (سپیشل انیشیٹوز) کے لیے 2 ارب 80 کروڑ 50 لاکھ روپے اور بلوچستان فلڈ پراجیکٹ (آئی ایف آر اے پی) کے لیے 17 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ نجکاری ڈویژن کے لیے 410.290 ملین روپے جبکہ ریلوے ڈویژن کے منصوبوں کے لیے 40 ارب 65 کروڑ 78 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں جو جاری مالی سال میں 18 ارب 55 کروڑ 87 لاکھ روپے ہیں۔دستاویز کے مطابق مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی ڈویژن کے لیے 31 کروڑ 15 لاکھ روپے، ریونیو ڈویژن کے لیے 11 ارب 57 کروڑ روپے، سائنس اور ٹیکنالوجیکل ریسرچ ڈویژن کے لیے 3 ارب 56 کروڑ 71 لاکھ روپے، سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) ڈویژن کے لیے 47 کروڑ 97 لاکھ روپے، سپارکو کے لیے 4 ارب 89 کروڑ 50 لاکھ روپے، اور آبی وسائل ڈویژن کے لیے 103 ارب 8 کروڑ 64 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں جو جاری مالی سال میں 101 ارب 64 کروڑ روپے ہیں۔

کارپوریشنز کے لئے مجموعی طور پر 312 ارب 51 کروڑ 45 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں، اس کے تحت نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 224 ارب 51 کروڑ 45 لاکھ روپے اور پاور ڈویژن (این ٹی ڈی سی/ پیپکو) کے لیے 88 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ مزید برآں پراجیکٹ لائبلٹیز کے لیے 4 ارب روپے اور سی پیک 2.0 کے تحت نئے اقدامات کے لیے 1 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔