آئندہ چند روز میں اچھی مون سون بارشیں ہوئیں تو پنجاب میں دھان کی پنیری کی منتقلی کا عمل تیز ہو جائے گا، سینئر سائنسدان عثمان سلیم

پنجاب بھر میں باسمتی دھان کی پنیری کی منتقلی کا عمل جاری ہے تاہم جولائی میں معمول سے کم بارشوں کے باعث اس کی رفتار تاحال سست ہے۔لاہور کے رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کالا شاہ کاکو کے سینئر سائنسدان عثمان سلیم نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں اس ماہ اب تک مطلوبہ بارشیں نہیں ہوئیں حالانکہ پانی کی زیادہ ضرورت رکھنے والی دھان کی فصل …

لاہور۔16جولائی (اے پی پی):پنجاب بھر میں باسمتی دھان کی پنیری کی منتقلی کا عمل جاری ہے تاہم جولائی میں معمول سے کم بارشوں کے باعث اس کی رفتار تاحال سست ہے۔لاہور کے رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کالا شاہ کاکو کے سینئر سائنسدان عثمان سلیم نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں اس ماہ اب تک مطلوبہ بارشیں نہیں ہوئیں حالانکہ پانی کی زیادہ ضرورت رکھنے والی دھان کی فصل کے لئے مناسب بارش انتہائی اہم ہے۔پنجاب حکومت نے رواں سال 55 لاکھ ایکڑ رقبے پر دھان کی کاشت کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ 27-2026 کے فصلی سیزن میں 52 لاکھ 50 ہزار ٹن پیداوار حاصل ہونے کی توقع ہے۔ ملک بھر میں دھان کی کاشت 74 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر ہونے اور 91 لاکھ 70 ہزار ٹن پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ عثما ن سلیم نے کہا کہ اگر آئندہ چند روز میں صوبے میں اچھی مون سون بارشیں ہوئیں تو دھان کی پنیری کی منتقلی کا عمل تیز ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مناسب بارشوں کی صورت میں پنجاب اپنے کاشت کے ہدف کو حاصل کر لے گا۔ ان کے مطابق گزشتہ سال صوبے نے دھان کی کاشت کا مقررہ ہدف 20 فیصد سے بھی تجاوز کر لیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں دھان کی مجموعی کاشت کے تقریباً 65 فیصد رقبے پر باسمتی سمیت عمدہ اقسام کاشت کی جاتی ہیں جبکہ باقی رقبے پر موٹے چاول کی اقسام، جن میں اری، ہائبرڈ اور دیگر اقسام شامل ہیں، کاشت کی جاتی ہیں۔عثمان سلیم کے مطابق باسمتی کی پنیری کی منتقلی کا بہترین وقت 7 جولائی سے 30 جولائی تک ہے جبکہ موٹے چاول کی اقسام کی منتقلی عموماً 20 جون سے 7 جولائی کے درمیان کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر وسطی اور شمالی پنجاب میں مناسب بارشیں ہوئیں تو دھان کی کاشت کا ہدف حاصل ہونے کے امکانات روشن ہیں۔پاکستان محکمہ موسمیات کے مطابق جولائی کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارش ہونے کی توقع ہے۔چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر محمد ظہیر بابر نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بالائی پنجاب، خصوصاً شمال مشرقی ڈویژنز پر مشتمل دھان پیدا کرنے والے علاقوں میں اس ماہ معمول سے کم بارش متوقع ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی طرح پنجاب میں بھی دن کے وقت درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ڈاکٹر محمد ظہیر بابر کے مطابق یہ موسمی حالات فصل کی آبی ضروریات، آبپاشی کے نظام الاوقات، کیڑوں کی افزائش اور مجموعی زرعی انتظامات کو متاثر کر سکتے ہیں۔دوسری جانب چاول برآمد کرنے والے ادارے بھی معمول سے کم بارشوں کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سابق سینئر وائس چیئرمین توفیق احمد خان نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر بارشیں معمول سے کم رہیں تو چاول کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے جس سے برآمدات کے لئے دستیاب اضافی مقدار کم ہوگی جبکہ چاول پاکستان کے لئے قیمتی زرمبادلہ کمانے والی اہم برآمدی فصل ہے۔

مزید خبریں