آئین پاکستان کے مطابق اُردو کو فی الفور دفتری اور سرکاری زبان کے طور پر نافذ کیا جائے

آئین پاکستان کے مطابق اُردو کو فی الفور دفتری اور سرکاری زبان کے طور پر نافذ کیا جائے مقتدرہ قومی زبان کا نام بحال کیا جائے اور اسے نفاذ اردو کے ضمن میں مرکزی حیثیت دی جائے ادارہ فروغ قومی زبان اسلام آباد کے زیر اہتمام سیمینار سے مقررین کا خطاب اور سفارشات کی منظوری اسلام آباد ۔ 17 مئی (اے پی پی) ادارہ فروغ قومی زبان اسلام آباد کے …

آئین پاکستان کے مطابق اُردو کو فی الفور دفتری اور سرکاری زبان کے طور پر نافذ کیا جائے
مقتدرہ قومی زبان کا نام بحال کیا جائے اور اسے نفاذ اردو کے ضمن میں مرکزی حیثیت دی جائے
ادارہ فروغ قومی زبان اسلام آباد کے زیر اہتمام سیمینار سے مقررین کا خطاب اور سفارشات کی منظوری

اسلام آباد ۔ 17 مئی (اے پی پی) ادارہ فروغ قومی زبان اسلام آباد کے زیر اہتمام ایک روزہ قومی مذاکرہ نے سفارش کی ہے کہ ملک میں آئین پاکستان کے مطابق اُردو کو فی الفور دفتری اور سرکاری زبان کے طور پر نافذ کیا جائے،تمام عدالتی کارروائی اردو میں کی جائے اورتمام عدالتی فیصلے اردو میں کئے جائیں، وفاقی اور صوبائی پبلک سروس کمیشن/سپیرئیرسروس کمیشن/عسکری سروس کمیشن کے امتحانات اردو اور انگریزی میں سے کسی بھی زبان میں دینے کی اجازت دی جائے، تمام سروس کمیشنوں کے امتحانات میں نو بڑی پاکستانی زبانوں کو بطور اختیاری مضمون شامل کیا جائے، مقتدرہ قومی زبان کا نام بحال کیا جائے اور اسے نفاذ اردو کے ضمن میں مرکزی حیثیت دی جائے۔ بدھ کو ہونے والے قومی مذاکرہ کا موضوع ”قومی زبان اور پاکستانی زبانیں: پس منظر اور پیش منظر“ تھا۔ مذاکرے کے افتتاحی اجلاس کی صدارت وزیر اعظم کے مشیرعرفان صدیقی نے کی جبکہ پروفیسر فتح محمد ملک اور مسعود مفتی مہمان خصوصی تھے۔ مذاکرے میں پاکستان کے مختلف علاقوں اور زبانوں کی نمائندگی کرنے والے اہل قلم، اہل علم اور دانشوروں نے شرکت کی۔اس موقع پر ادارہ کے ڈائریکٹر جنرل افتخار عارف نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور مذاکرے کی افادیت پر روشنی ڈالی۔عرفان صدیقی نے کہا کہ پاکستان کی واحد قومی زبان اردو ہے، پاکستان کی مادری ےا پاکستانی زبانیں اےک دوسرے کی دوست ہیں۔ مذاکرے میںحصہ لینے والوں میں ڈاکٹر احسان اکبر، ڈاکٹر رﺅف پاریکھ، ڈاکٹر فاطمہ حسن، پروفیسر جلیل عالی، پروین ملک، ڈاکٹر ناصر عباس نیئر، جبار مرزا، حفیظ خان، محمد ضیاءالدین اورڈاکٹر واحد بخش بزدارشامل تھے۔ اس ایک روزہ قومی مذاکرے کے اختتام پر شرکائے مجلس نے کئی سفارشات اتفاق رائے سے منظور کیں۔

مزید خبریں

Leave a Reply