آئی ایس ایس آئی کے زیراہتمام کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے تعاون سے گول میز کانفرنس

اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):آئی ایس ایس آئی کے انڈیا سٹڈی سینٹر نے کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے تعاون سے جموں و کشمیر میں حق خود ارادیت کا مطالبہ کے عنوان سے گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا۔اس موقع پر آئی ایس ایس آئی کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز سفیر خالد محمود نے کہا کہ 5 جنوری 1949ء کی قرارداد نے یہ اصول قائم …

اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):آئی ایس ایس آئی کے انڈیا سٹڈی سینٹر نے کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے تعاون سے جموں و کشمیر میں حق خود ارادیت کا مطالبہ کے عنوان سے گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا۔اس موقع پر آئی ایس ایس آئی کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز سفیر خالد محمود نے کہا کہ 5 جنوری 1949ء کی قرارداد نے یہ اصول قائم کیا کہ جموں و کشمیر کی قسمت کا فیصلہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے ذریعے آزاد اور غیر جانبدار ریفرنڈم کے ذریعے کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے کیونکہ یہ بھارت کا حصہ ہے جبکہ یہ موقف پاکستان، کشمیریوں اور بین الاقوامی کمیونٹی کے لیے قابل قبول نہیں ہے جو کہتے ہیں کہ جموں و کشمیر ایک زمینی مسئلہ نہیں بلکہ لوگوں کے خود ارادیت کا معاملہ ہے۔

انڈیا سٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خرم عباس نے کہا کہ 1949ء میں یو این سی آئی پی نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حق کو تسلیم کیا لیکن 78 سال بعد بھی جموں و کشمیر کے لوگ اپنے حق خود ارادیت کے منتظر ہیں۔آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سابق کنوینر فراق رحمتی نے کہا کہ بھارت کبھی بھی یو این کی قراردادوں کو نافذ نہیں کرنا چاہتا ، اس لیے وہ مختلف اعتراضات اٹھا کر اس معاملے کو پیچیدا کرتا رہا ہے۔

پاکستان کی نمائندہ او آئی سی سفیر رفعت مسعود نے کہا کہ حق خود ارادیت کا حق برطانوی راج سے آزادی کی تحریک کا ایک اہم حصہ تھا لیکن بھارت نے اس حق کو جموں و کشمیر کے لوگوں کو دینے سے انکار کیا۔سفیر خالد محمود نے کشمیری عوام کی استقامت کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان کشمیر کے مسئلے پر اپنی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔