آئی ایل او اور ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے زیر اہتمام نیشنل ڈائیلاگ، معیاری صحت خدمات کیلئے پیشہ ورانہ تحفظ کو مضبوط بنانے پر اتفاق

اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن(آئی ایل او) اور ہیلتھ سروسز اکیڈمی(ایچ ایس اے) نےپاکستان کی افرادی قوت کو معیاری، بروقت اور احتیاطی بنیادوں پر مبنی سوشل سکیورٹی خدمات کی فراہمی کے لیے ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور پیشہ ورانہ صحت و تحفظ (او ایس ایچ) پر توجہ مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔آئی ایل او اور ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے زیر اہتمام دو روزہ ’نیشنل …

اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن(آئی ایل او) اور ہیلتھ سروسز اکیڈمی(ایچ ایس اے) نےپاکستان کی افرادی قوت کو معیاری، بروقت اور احتیاطی بنیادوں پر مبنی سوشل سکیورٹی خدمات کی فراہمی کے لیے ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور پیشہ ورانہ صحت و تحفظ (او ایس ایچ) پر توجہ مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔آئی ایل او اور ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے زیر اہتمام دو روزہ ’نیشنل ڈائیلاگ آن سٹرینتھنگ سروس ڈیلیوری ان ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشنز آف پاکستان‘ گزشتہ روز یہاں منعقد ہوا۔یہ نیشنل ڈائیلاگ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اور ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے) کے درمیان ورکنگ فار ہیلتھ پروگرام کے تحت جاری اشتراک کا حصہ ہے جس کا مقصد صحت کے شعبے میں محفوظ اور باوقار کام کے ماحول کو فروغ دینا ہے۔

ای ایس ایس آئی ایس پاکستان کے لیبر اور سوشل پروٹیکشن نظام میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں جو صحت کی سہولیات، معاوضہ اور بحالی کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ ان اداروں کی صلاحیت میں اضافہ ایک ایسے مزدور دوست اور احتیاطی بنیادوں پر مبنی نظام کی تشکیل کے لیے اہم قرار دیا گیا جو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ ہو اور یونیورسل سوشل پروٹیکشن کے حصول کی جانب پیش رفت کرے۔نیشنل ڈائیلاگ میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ای ایس ایس آئی ایس کے سینئر نمائندگان نے شرکت کی۔

تکنیکی سیشنز اور تجربات کے تبادلے کے دوران خدمات کی بہتری، واجبات ،عطیات ، ہسپتالوں کی گورننس اور اس ایس ایچ میں بہتری کے مختلف پہلوئوں پر غور کیا گیا۔وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے کہا کہ یہ ڈائیلاگ سرکاری اداروں اور وسیع تر صحت کے شعبے میں اس ایس ایچ کو مضبوط بنانے کا ایک اہم موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبائی سوشل سکیورٹی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر علم اور تجربے کا تبادلہ ممکن بنایا گیا ہے جو صحت کے شعبے میں بہتر خدمات اور باوقار کام کے فروغ میں مدد دے گا۔

آئی ایل او پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر گئیر ٹونسٹول نے کہا کہ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشنز آف پاکستان، لاکھوں مزدوروں اور ان کے خاندانوں کے تحفظ کی اولین صف میں ہیں تاہم صحت کے عملے کے لیے حفاظتی اور صحت کے معیارات کو یقینی بنائے بغیر معیاری خدمات ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایل او پاکستان میں احتیاط پر مبنی اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ او ایس ایچ نظام کے قیام کے لیے معاونت جاری رکھے گا تاکہ ہر بیمہ شدہ مزدور کو بروقت اور باعزت سہولت میسر ہو جو ’’ڈی سینٹ ورک ایجنڈا‘‘ کا بنیادی حصہ ہے۔

کمشنر پیسی (PESSI) محمد علی نے بتایا کہ آئی ایل او کے تعاون سے پیسی کے ہسپتالوں میں ہیلتھ وائز ٹول کٹ نافذ کی جا چکی ہے جس کے نتیجے میں ارگونومکس، محفوظ ویسٹ مینجمنٹ اور عملے کی او ایس ایچ تربیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے صوبائی اداروں کے درمیان شراکت داری کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ مزدور سوشل سکیورٹی سے مستفید ہو سکیں۔

واضح رہے کہ آئی ایل او، او ای سی ڈی اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اشتراک سے شروع کیے گئے ورکنگ فار ہیلتھ پروگرام کے تحت پاکستان میں سوشل سکیورٹی اداروں کی معاونت کی جا رہی ہے تاکہ کام کی جگہوں کو محفوظ بنایا جا سکے، نظام صحت کی ترسیل بہتر ہو اور صحت سے وابستہ پیشہ ور افراد کو احتیاطی اور مزدور دوست خدمات کے لیے ضروری تربیت اور وسائل فراہم کیے جا سکیں۔