اقوام متحدہ کا اے آئی ٹیکنالوجی اور سپلائی چینز سے متعلق ممالک کو واضح حدود طے کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر زور

قوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مزید موثر کنٹرول کے بڑھتے ہوئے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بے قابو چھوڑ دیا گیا تو یہ ’’انسانیت کے وجود کے لیے خطرہ‘‘ بن سکتی ہے۔

اقوام متحدہ ۔8ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مزید موثر کنٹرول کے بڑھتے ہوئے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بے قابو چھوڑ دیا گیا تو یہ ’’انسانیت کے وجود کے لیے خطرہ‘‘ بن سکتی ہے۔

اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پابند قوانین، آزادانہ نگرانی اور واضح حدود کے بغیر یہ ٹیکنالوجی قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔وولکر ترک نے اس امکان کا بھی ذکر کیا کہ مصنوعی ذہانت کے نظام اتنے طاقتور ہو جائیں کہ ان کے تخلیق کار بھی ان پر قابو نہ رکھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ ایسی مصنوعی ذہانت جو اپنے آزمائشی ماحول سے باہر نکل جائے یا خود کو بند ہونے سے روکنے کے لیے اپنے ڈویلپرز کو بلیک میل کرے، بہت زیادہ طاقتور اے آئی ہے۔

انہوں نےکہا کہ میں آج یہاں مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور سلامتی کے لیےموثر حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی کوشش کا مطالبہ کر رہا ہوں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔وولکر ترک نے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کی میزبانی کرنے والے ممالک اور ان کی سپلائی چینز سے وابستہ ممالک پر زور دیا کہ وہ مل کر واضح حدود متعین کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آزادانہ تصدیق اور اس شعبے کے اندر حفاظت کے حوالے سے کہیں زیادہ قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ چیلنج صرف تکنیکی تحفظ تک محدود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مٹھی بھر افراد کے پاس مصنوعی ذہانت پر تقریباً لامحدود طاقت ہے۔ان کا اشارہ ٹیکنالوجی کی طاقت کے بڑھتے ہوئے ارتکاز اور جمع کیے جانے اور پراسیس کیے جانے والے وسیع پیمانے پر ڈیٹا کی جانب تھا۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایسی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے جو انسانیت کی خدمت کرے، نہ کہ انسانیت اس کی خدمت کرے۔ انہوں نے روزگار، جمہوریت اور ماحولیات کے حوالے سے مصنوعی ذہانت کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے رہنما اصول برقرار رہنا چاہیے۔