آئی ایم ایف اور صومالیہ کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا

موغادیشو۔14اکتوبر (اے پی پی):عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)نے کہا ہے کہ اس نے صومالیہ کے ساتھ سٹاف سطح کا معاہدہ طے کر لیا ہے جس کا مقصد ایکسٹینڈڈ کریڈٹ فیسیلٹی (ای سی ایف) پروگرام کے تحت چوتھے جائزے کی تکمیل ہے۔ شنہوا کے مطابق آئی ایم ایف نے جاری بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ 16 ستمبر سے 8 اکتوبر تک ہونے والی بات چیت کے بعد طے پایا …

موغادیشو۔14اکتوبر (اے پی پی):عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)نے کہا ہے کہ اس نے صومالیہ کے ساتھ سٹاف سطح کا معاہدہ طے کر لیا ہے جس کا مقصد ایکسٹینڈڈ کریڈٹ فیسیلٹی (ای سی ایف) پروگرام کے تحت چوتھے جائزے کی تکمیل ہے۔ شنہوا کے مطابق آئی ایم ایف نے جاری بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ 16 ستمبر سے 8 اکتوبر تک ہونے والی بات چیت کے بعد طے پایا جس کی قیادت صومالیہ کے لئے آئی ایم ایف مشن چیف ران بی نے کی۔

معاہدے کی منظوری آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے مشروط ہے، جس کے بعد صومالیہ کو 3 کروڑ ڈالر جاری کیے جائیں گے۔ ران بی نے کہا کہ غیر ملکی امداد میں کٹوتیوں کے منفی اثرات کو کم کرنے اور اصلاحاتی کوششوں کی حمایت کے لئے صومالیہ کی حکومت نے ایکسٹینڈڈ کریڈٹ فیسیلٹی (ای سی ایف) کے تحت تقریباً 4 کروڑ ڈالر کی اضافی مالی معاونت کی درخواست کی جو چوتھے اور پانچویں جائزوں کی تکمیل پر مساوی قسطوں میں جاری کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے کی منظوری کے بعد دسمبر 2023 میں منظور شدہ ای سی ایف پروگرام کے تحت مجموعی طور پر تقریباً 10 کروڑ ڈالر کی ادائیگی ہو جائے گی۔

آئی ایم ایف کے مطابق 2024 میں 4.1 فیصد کی مضبوط اقتصادی نمو کے بعد صومالیہ کی معیشت کو26۔2025میں غیر ملکی امداد میں شدید کمی اور موسمیاتی اثرات کے باعث کمزور امکانات کا سامنا ہے۔ اب 2025 میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 3 فیصد اور 2026 میں 3.3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ مہنگائی تقریباً 3.5 فیصد پر مستحکم رہے گی تاہم خوراک کی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ قریب المدت منظرنامے میں خدشات غالب ہیں، جن میں غیر ملکی امداد میں طویل المدت تعطل اور موسمیاتی اثرات شامل ہیں، جو معاشی صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ اس مشکل صورتحال کے باوجود صومالیہ کی حکومت مقامی محاصل میں اضافے اور مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لئے پرعزم ہے۔ 2026 کے عبوری بجٹ پلان میں مقامی ریونیو میں اضافہ اور اخراجات میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے نیز سکیورٹی اور انتخابات سے متعلق اضافی اخراجات کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت غیر ملکی امداد میں کمی کے سماجی اثرات کو کم کرنے کے لئے مقامی بجٹ سے سماجی اخراجات میں بھی توسیع کی جائے گی۔

آئی ایم ایف کے مطابق 2026 میں مجموعی مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا تقریباً تین چوتھائی رہنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف نے زور دیا کہ قرض اور عوامی مالیاتی نظام کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے اور حکومت شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لئےمعدنیات کے شعبے سے متعلق نئے قانونی فریم ورک پر عمل درآمد کی تیاری کر رہی ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق اہم داخلی محاصل اصلاحات میں کسٹمز کی جدید کاری، نئے انکم ٹیکس قانون کا نفاذ اور سیلز و انکم ٹیکس کی بہتر وصولی شامل ہیں۔

مزید خبریں