اسلام آباد۔23جنوری (اے پی پی):بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے جاری سال کیلئے پاکستان کی شرح نمو3.2فیصد اور آئندہ سال 4.1فیصد تک رہنے کی پیشنگوئی کی ہے۔ یہ بات آئی ایم ایف کی جانب سے ورلڈاکنامک آئوٹ لک اپ ڈیٹ کے نام سے جاری رپورٹ میں کہی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق عالمی شرحِ نمو 2026 میں 3.3 فیصد اور 2027 میں 3.2 فیصد رہنے کی توقع ہے جو …
آئی ایم ایف کی جاری سال کیلئے پاکستان کی شرح نمو3.2فیصد،آئندہ سال 4.1فیصد تک رہنے کی پیشنگوئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔23جنوری (اے پی پی):بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے جاری سال کیلئے پاکستان کی شرح نمو3.2فیصد اور آئندہ سال 4.1فیصد تک رہنے کی پیشنگوئی کی ہے۔ یہ بات آئی ایم ایف کی جانب سے ورلڈاکنامک آئوٹ لک اپ ڈیٹ کے نام سے جاری رپورٹ میں کہی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق عالمی شرحِ نمو 2026 میں 3.3 فیصد اور 2027 میں 3.2 فیصد رہنے کی توقع ہے جو 2025 میں اندازاً حاصل ہونے والی 3.3 فیصد شرحِ نمو کے تقریباً برابر ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2026میں پاکستان کی اقتصادی نموکی شرح 3.2فیصد اورسال 2027میں 4.1فیصد تک رہنے کاامکان ہے۔
رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ عالمی معیشت کی بظاہر مستحکم کارکردگی مختلف اور ایک دوسرے سے متضاد عوامل کے درمیان توازن کا نتیجہ ہے۔ ایک جانب بدلتی ہوئی تجارتی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی رکاوٹیں موجود ہیں تاہم دوسری جانب ٹیکنالوجی بالخصوص مصنوعی ذہانت کے شعبہ سے جڑی سرمایہ کاری عالمی معیشت کو سہارا دے رہی ہے۔ یہ مثبت اثرات خاص طور پر شمالی امریکا اور ایشیا میں زیادہ نمایاں جبکہ دیگر خطوں میں نسبتاً کم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2026 میں عالمی سطح پرمہنگائی کی شرح 3.8 فیصد اور 2027 میں مزید کم ہو کر 3.4 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
مہنگائی کے یہ تخمینے بھی اکتوبر کی پیش گوئیوں کے مقابلے میں بڑی حد تک بغیر تبدیلی کے ہیں۔رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ عالمی تجارتی کشیدگیوں میں دوبارہ شدت آسکتی ہے جس سے غیر یقینی صورتحال طویل ہو جائے گی اور اقتصادی سرگرمیوں پر مزید دباؤ پڑے گا۔ اسی طرح داخلی سیاسی کشیدگیاں یا جغرافیائی سیاسی تنازعات بھی اچانک ابھر سکتے ہیں جو مالی منڈیوں، سپلائی چینز اور اجناس کی قیمتوں پر اثر انداز ہو کر عالمی معیشت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ مصنوعی ذہانت سے جڑی سرمایہ کاری میں مزید تیزی اور اس کے وسیع تر استعمال سے حقیقی پیداواری بہتری اور کاروباری سرگرمیوں میں جدت آئیگی اوراس سے معاشی سرگرمیوں کو نہ صرف وقتی بلکہ پائیدار ترقی میں بھی تبدیل کیا جا سکتاہے،اسی طرح تجارتی کشیدگیوں میں کمی سے عالمی معیشت کو اضافی سہارا مل سکتا ہے۔
رپورٹ میں معاشی استحکام کو فروغ دینے اور درمیانی مدت میں پائیدار ترقی کے امکانات کو مضبوط بنانے کے لئے پالیسی سازوں کو فوری اور واضح اقدامات کی سفارش کی گئی ہے ان میں مالیاتی ذخائر کی بحالی، قیمتوں اور مالیاتی استحکام کا تحفظ، غیر یقینی صورتحال میں کمی، اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے فوری نفاذ پر خصوصی توجہ شامل ہے۔








