پاکستان میں ثالثی، آربیٹریشن اور متبادل تنازعاتی حل کے نظام کو عالمی تعاون کے ذریعے مزید فروغ دینے کے لئے وزارتِ قانون و انصاف کے تحت قائم انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (آئی ایم اے سی ) اور او آئی سی آربیٹریشن سینٹر (او آئی سی- اے سی ) کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیئے گئے۔وزارت قانون و انصاف کے ترجمان کے جاری اعلامیہ کے مطابق مفاہمتی …
آئی ایم اے سی اور او آئی سی- اے سی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

مزید خبریں
اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):پاکستان میں ثالثی، آربیٹریشن اور متبادل تنازعاتی حل کے نظام کو عالمی تعاون کے ذریعے مزید فروغ دینے کے لئے وزارتِ قانون و انصاف کے تحت قائم انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (آئی ایم اے سی ) اور او آئی سی آربیٹریشن سینٹر (او آئی سی- اے سی ) کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیئے گئے۔وزارت قانون و انصاف کے ترجمان کے جاری اعلامیہ کے مطابق مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں اداروں نے ثالثی، آربیٹریشن، متبادل تنازعاتی حل اور تنازعات کی روک تھام کے شعبوں میں طویل المدت تعاون کا فریم ورک طے کیا ہے۔
تقریب میں وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، سپریم کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور او آئی سی آربیٹریشن سینٹر کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عمر اے اوسی نے شرکت کی۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ عالمی شراکت داری پاکستان میں ثالثی کے نظام کو مزید مستحکم کرے گی، پاکستان عالمی شراکت داروں کے تعاون سے بامقصد اور منفرد شراکت داری آگے بڑھانے کے لئے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی شراکت داری سے ثالثی کے شعبے میں بین الاقوامی روابط مزید مضبوط ہوں گے جبکہ پاکستان میں میڈی ایشن اور مصالحت کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔مفاہمتی یادداشت کے تحت آئی ایم اے سی اور او آئی سی-اے سی علم، معلومات، مطبوعات اور پیشہ وارانہ مہارت کا تبادلہ کریں گے جبکہ استعدادِ کار کے پروگرامز، کانفرنسز، سیمینارز اور ویبنارز کے انعقاد میں بھی تعاون کیا جائے گا۔
دونوں ادارے موزوں اور اہل ثالثوں اور آربیٹریٹرز کی نشاندہی اور سفارش میں بھی تعاون کریں گے۔ڈاکٹر عمر اے اوسی نے کہا کہ آئی ایم اے سی اور او آئی سی-اے سی کا تعاون تنازعات کے پرامن، مؤثر اور کم لاگت حل کو فروغ دے گا، مفاہمتی یادداشت دونوں اداروں کے جاری تعاون کو عالمی سطح تک لے جانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ علماء کرام کے لئے سول، مالی اور شریعہ سے ہم آہنگ ثالثی کا تربیتی ماڈل منفرد ہے جبکہ علماء کرام کے پانچ روزہ ثالثی تربیتی پروگرام میں بین الاقوامی سطح پر دلچسپی پیدا ہوئی ہے۔سیکرٹری جنرل او آئی سی ثالثی سینٹر نے کہا کہ آئی ایم اے سی اور او آئی سی-اے سی اس تربیتی ماڈل کو مختلف ممالک میں فروغ دینے کے لئے مل کر کام کریں گے، دونوں اداروں کا تعاون پیشہ وارانہ روابط اور ادارہ جاتی استعداد کو مضبوط بنانے میں معاون ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پاکستان اور او آئی سی خطے میں مؤثر تنازعاتی حل کے کلچر کو تقویت دے گی۔







