وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو التواء میں رکھا ہے جو جدید تاریخ میں پانی کو ہتھیار بنانے کی پہلی مثال ہے اور پاکستان کے لیے ایک سنگین نئے سکیورٹی چیلنج کو جنم دے رہی ہے۔نیویارک میں ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیائی اقدامات فروا امین سے گفتگو …
بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو التواء میں رکھا ہے، جدید تاریخ میں پانی کو ہتھیار بنانے کی پہلی مثال ہے، احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو التواء میں رکھا ہے جو جدید تاریخ میں پانی کو ہتھیار بنانے کی پہلی مثال ہے اور پاکستان کے لیے ایک سنگین نئے سکیورٹی چیلنج کو جنم دے رہی ہے۔نیویارک میں ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیائی اقدامات فروا امین سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ 70 سال پرانا یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان متعدد جنگوں کے باوجود ہمیشہ ’’ناقابل دست اندازی‘‘ سمجھا جاتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ بھارتی حکومت نے یکطرفہ طور پر اسے التواء میں رکھا ہے جس سے ایک نیا چیلنج پیدا ہوا ہے اور شاید جدید تاریخ میں پہلی مرتبہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔احسن اقبال نے خبردار کیا کہ بھارت اب پاکستان کو فصلوں کی ضرورت کے وقت پانی روک سکتا ہے اور ایسے وقت میں پانی چھوڑ سکتا ہے جب اس کی ضرورت نہ ہو جس سے مشترکہ آبی وسائل کو دبائو کے ایک ممکنہ ذریعے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔پاکستان اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے دو سطحوں پر اقدامات کر رہا ہے۔ پہلی سطح پر نئے آبی ذخائر کی تعمیر تیز کی جا رہی ہے تاکہ ملک کے پاس پانی کا ایک سٹریٹجک بفر موجود ہو۔ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تکمیل کے بعد تقریباً 60 لاکھ ایکڑ فٹ اضافی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا ہوگی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے تقریباً 40 سے 50 سال کے عرصے میں کوئی بڑا نیا آبی ذخیرہ تعمیر نہیں کیا، اس لیے ملک کو اس حوالے سے کافی کام تیزی سے مکمل کرنا ہوگا۔
ان منصوبوں کا مقصد موسمیاتی تبدیلی کے باعث پانی کی دستیابی میں پیدا ہونے والے اتار چڑھائو کو کم کرنا اور بالائی علاقوں سے پانی کے ممکنہ استعمال کو روکنے کے خطرے سے ملک کی حساسیت کم کرنا ہے۔دوسری سطح پر پاکستان تنازع کو کشیدگی یا جنگ کی طرف جانے سے روکنے کے لیے تمام دستیاب سفارتی ذرائع استعمال کر رہا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہم اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا پہلے ہی جنگوں کی تاریخ رکھتا ہے اور اب خطے کو ترقی، غربت کے خاتمے، بیماریوں پر قابو پانے اور اپنی بڑی نوجوان آبادی کو تعلیم دینے پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر خطوں میں علاقائی رابطوں کے ثابت شدہ فوائد کے باوجود جنوبی ایشیا آج بھی دنیا کا سب سے کم مربوط خطہ ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق پانی کا چیلنج پاکستان کی وسیع تر معاشی اور سٹریٹجک ترجیحات کا حصہ ہے۔
انہوں نے ’’اڑان پاکستان‘‘ فریم ورک اور 5E حکمت عملی کے تحت جیو اکنامکس کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون قرار دیا اور کہا کہ بالخصوص امریکہ کے ساتھ تعلقات کو روایتی سکیورٹی اور جیو پولیٹیکل محور سے آگے بڑھانا ہوگا۔اس تبدیلی میں اہم معدنیات کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ پاکستان کے معدنی ذخائر کی مجموعی مالیت کا تخمینہ 7 ٹریلین ڈالر سے زائد لگایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کئی دہائیوں تک جاری رہنے والے علاقائی تنازعات اور داخلی سیاسی عدم استحکام کے باعث ان منصوبوں کے لیے درکار طویل المدتی سرمایہ کاری متاثر ہوئی۔انہوں نے کہا کہ بہتر ہوتی معاشی صورتحال کے بعد حکومت اب غیر ملکی شراکت داروں، خصوصاً امریکی کمپنیوں کو متوجہ کر رہی ہے جس میں یو ایس سٹریٹجک میٹلز کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت، ممکنہ ایکسپورٹ امپورٹ بینک فنانسنگ اور اہم معدنیات سے متعلق عالمی وزارتی سطح کے اقدامات میں شرکت شامل ہے۔
احسن اقبال نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ تعاون چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی قیمت پر نہیں ہوگا۔ انہوں نے چین کو پاکستان کا ’’قابل اعتماد شراکت دار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ توانائی کے بحران کے دوران چین نے سی پیک کے پہلے مرحلے کے ذریعے پاکستان کا ساتھ دیا اور تقریباً 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے طویل عرصے سے جاری بجلی کی قلت کے خاتمے کے ساتھ شاہراہوں، فائبر آپٹک نیٹ ورک اور گوادر پورٹ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک 2.0 میں حکومت سے حکومت کے درمیان بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے بجائے کاروبار سے کاروبار کے تعاون پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ اس کے تحت پانچ کوریڈورز یعنی ترقی، روزگار و معاش، جدت، گرین انرجی اور علاقائی رابطہ اہم ترجیحات ہیں۔ان شعبوں میں موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت، صنعتی مشترکہ منصوبے، معدنیات و کان کنی، ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی شامل ہیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق حالیہ کاروباری کانفرنسوں میں کئی ارب ڈالر مالیت کے مشترکہ منصوبوں کے معاہدے پہلے ہی طے پا چکے ہیں۔معدنیات کے شعبے میں امریکہ اور چین کے درمیان توازن کے حوالے سے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان نے تاریخی طور پر دونوں ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھے ہیں اور اقتصادی ترقی کو کسی ایک ملک کے ساتھ تعلقات کی قیمت پر دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کو درست نہیں سمجھتا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات کو دوسرے ملک کی قیمت پر استوار کرنے پر یقین نہیں رکھتا۔مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بھی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔
احسن اقبال نے بتایا کہ وژن 2025 کے تحت مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، بگ ڈیٹا، روبوٹکس، جی آئی ایس اور جینومکس کے مراکز قائم کیے گئے تھے جنہیں ہب اینڈ سپوک ماڈل کے ذریعے جامعات سے منسلک کیا گیا تاکہ تحقیق کو کمرشلائزیشن اور سٹارٹ اپس میں تبدیل کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ نئی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی اس پورے ویلیو چین کا احاطہ کرتی ہے، جس میں ڈیٹا سینٹرز، اسکول سے اعلیٰ تعلیم تک نصاب میں اصلاحات، ڈیٹا کی خودمختاری اور تعلیم، صحت، صنعت اور گورننس کے لیے مخصوص ٹاسک فورسز شامل ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے پاس اس وقت قابل تجدید اور روایتی دونوں ذرائع سے اضافی توانائی کی گنجائش موجود ہے جو قلیل اور درمیانی مدت میں ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری کے لیے ملک کو پرکشش بنا سکتی ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ توانائی کی وافر دستیابی پانی کے بنیادی مسئلے کو حل نہیں کرتی۔
احسن اقبال نے مصنوعی ذہانت اور کان کنی کو پانی کے زیادہ استعمال والے شعبے قرار دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی پاکستان جیسے دنیا کے انتہائی حساس ممالک میں غذائی تحفظ کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نئے ڈیم نہ صرف ترقیاتی بلکہ سٹریٹجک مقاصد بھی پورے کرتے ہیں۔گفتگو کے دوران احسن اقبال نے بار بار پاکستان کی بڑی، باصلاحیت نوجوان آبادی اور ایشیائی منڈیوں کے سنگم پر جغرافیائی محل وقوع کو ملک کا اہم تقابلی فائدہ قرار دیا۔ انہوں نے آئی ٹی، ٹیکنالوجی تعاون اور علاقائی رابطوں کے شعبوں میں مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ امریکی جامعات کے ساتھ شراکت داری بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے جس میں ماضی کے پاکستان-امریکہ نالج کوریڈور اور گرین ریوولوشن کے لیے تاریخی تعاون سے رہنمائی حاصل کی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ امریکی اور چینی کمپنیوں کے ساتھ نجی شعبے کے تعاون کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر کے بیان سے حکومت کی مجموعی پالیسی واضح ہوتی ہے، ملکی معیشت کو مستحکم کرنا، بالخصوص پانی ذخیرہ کرنے کے لیے سٹریٹجک انفراسٹرکچر کو تیز کرنا، اقتصادی سفارت کاری کو سکیورٹی کے دائرے سے آگے بڑھانا اور بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو ایک دوسرے کا متبادل نہیں بلکہ باہمی طور پر تکمیلی سمجھنا۔سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے احسن اقبال کا پیغام واضح تھا کہ پاکستان پانی کو مستقل طور پر دبائو یا جبر کے آلے میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے آبی ذخائر کی تعمیر اور سفارتی کوششوں، دونوں محاذوں پر کام جاری رکھے گا۔







