اسلام آباد۔6اگست (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) نے یورپی یونین کے ماحولیاتی ضوابط اور برآمدات پر ان کے اثرات کے حوالے سے ایک انٹر ایکٹو سیشن کا انعقاد کیا جس میں بڑی تعداد میں برآمد کنندگان اور اہم سرکاری افسران نے شرکت کی ۔ سیشن سے ڈائریکٹر انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر جنیواایسیپین جوکوین اولیویرا گومیز ، چیف سیکٹر اینڈ انٹرپرائز کمپیٹیٹونس انٹرنیشنل ٹریڈ …
آئی سی سی آئی کا یورپی یونین کے موسمیاتی ضابطوں اور بر آمدات پر اثرات کے حوالے سے تقریب کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔6اگست (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) نے یورپی یونین کے ماحولیاتی ضوابط اور برآمدات پر ان کے اثرات کے حوالے سے ایک انٹر ایکٹو سیشن کا انعقاد کیا جس میں بڑی تعداد میں برآمد کنندگان اور اہم سرکاری افسران نے شرکت کی ۔ سیشن سے ڈائریکٹر انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر جنیواایسیپین جوکوین اولیویرا گومیز ، چیف سیکٹر اینڈ انٹرپرائز کمپیٹیٹونس انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر جنیوا رابرٹ سکڈمور، جوائنٹ سیکرٹری ای یو افیئرز منسٹری آف کامرس عاطف عزیز، صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری احسن ظفر بختاوری، سابق صدر آئی سی سی آئی اور سیکرٹری جنرل یونائیٹڈ بزنس گروپ ظفر بختاوری، ایڈوائزر نیشنل ٹریڈ سینٹر محمد شعیب ، پالیسی ایڈوائزر عدنان یوسف لودھی اور دیگر نے خطاب کیا۔
اپنے افتتاحی کلمات میں آئی سی سی آئی کے صدر احسن ظفر بختاوری نے ان نئے ضوابط کو سمجھنے اور ان کو اپنانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی کاروباری اداروں کو اپنی مارکیٹ تک رسائی اور مسابقت کو برقرار رکھنے کے لیے یورپی یونین کے ماحولیاتی معیارات کے ساتھ فعال طور پر ہم آہنگ ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے لیے ہماری برآمدات بہت اہم ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان تبدیلیوں سے نہ صرف آگاہ رہیں بلکہ ان ضوابط کی تعمیل کے لیے بھی تیار ہوں۔احسن ظفر بختاوری نے کہا کہ پاکستان میں کاربن کا اخراج پڑوسی ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے،
عالمی گرین ہائوس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ صرف 0.93 فیصد ہے لیکن یہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم) پر عمل درآمد یقینی طور پر ان کی مشکلات میں اضافہ کرے گا۔ انہوں نے میکانزم کے مرحلہ وار نفاذ کی درخواست کی۔انہوں نے انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر کے وفد پر زور دیا کہ وہ کراچی، لاہور، فیصل آباد اور سیالکوٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کریں تاکہ برآمد کنندگان اور صنعت کاروں کے یورپی یونین کو برآمدات بڑھانے کے عزائم اور اس سلسلے میں انہیں درپیش مشکلات سے آگاہی حاصل ہو سکے۔ظفر بختاوری نے سیشن کو پورے کاروباری برادری کے لیے بہت مفید قرار دیتے ہوئے ترقی پذیر اور کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے کچھ رعایتوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس طریقہ کار پر عمل درآمد آسانی سے اپنا سکیں۔
رابرٹ سکڈمور نے سیشن کو ماڈریٹ کیا اور پاکستانی کاروباروں کو مزید پائیدار طریقوں کی طرف منتقلی میں مدد کرنے کے لیے دستیاب تعاون پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے آئی ٹی سی کے گروتھ فار رورل ایڈوانسمنٹ اینڈ سسٹین ایبل پروگریس (جی آر اے ایس پی) پروجیکٹ کا خاکہ پیش کیا کہ کس طرح یہ پروجیکٹ صلاحیت کی تعمیر اور پالیسی اقدامات کے ذریعے ایس ایم ایز کی مدد کر رہا ہے۔اس بحث میں یورپی یونین کے سخت نئے تجارتی ضوابط پر توجہ مرکوز کی گئی جو یورپی گرین ڈیل کا حصہ ہیں، ایک جامع پالیسی اقدام جس کا مقصد یورپ کو 2050 تک پہلا آلودگی سے پاک براعظم بنانا ہے۔
آئی ٹی سی سے عدنان لودھی نے شرکاء کو بریفنگ دی کہ بڑے تجارتی پارٹنر کی حیثیت سے پاکستان کی برآمدات بالخصوص ٹیکسٹائل، زراعت اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں ان تبدیلیوں سے براہ راست متاثر ہونے کی توقع ہے۔آئی سی سی آئی کے سابق صدر میاں شوکت مسعود نے بھی پاکستانی برآمد کنندگان کو درپیش مشکلات پر روشنی ڈالتے ہوئے کچھ تدارکاتی تدابیر تجویز پیش کیں۔اس مکالمے میں یورپی یونین کے نئے تجارتی ضوابط کو اپنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا اور پاکستانی کاروباری اداروں، حکومت اور آئی ٹی سی جیسے بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان آگاہی اور تعاون کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔شرکاء میں دیگر کے علاوہ عبدالرحمن صدیقی، رضوان چھینہ، مقصود تابش، ملک شبیر اعوان، محسن خالد ملک، ناصر چوہدری، نعیمہ انصاری، صدف عباسی، چوہدری وسیم بھی موجود تھے۔








