پاکستان ویمنز ٹیم نیدرلینڈز کے خلاف آخری گروپ میچ آج کھیلے گی
آئی سی سی ویمنز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے کا آخری ٹرپل ہیڈر ہفتہ کو کھیلا جائے گا

مزید خبریں
لاہور۔26جون (اے پی پی):آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے کا آخری ٹرپل ہیڈر ہفتہ کو کھیلا جائے گا، جہاں پاکستان ویمنز ٹیم نیدرلینڈز کے خلاف اپنی مہم کا اختتام فتح کے ساتھ کرنے کے لیے میدان میں اترے گی۔
دونوں ٹیمیں سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہیں، تاہم یہ مقابلہ ٹورنامنٹ میں پہلی کامیابی حاصل کرنے کا آخری موقع ہوگا۔مانچسٹر میں ہونے والے اس میچ میں پاکستان کی نظریں نہ صرف جیت پر ہوں گی بلکہ ٹیم ٹورنامنٹ کا اختتام مثبت انداز میں کرنے کی بھی خواہاں ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک صرف ایک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلا گیا ہے، جس میں پاکستان نے 2011 میں سری لنکا میں منعقدہ چار ملکی ٹورنامنٹ کے فائنل میں 12 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔پاکستانی ٹیم گزشتہ میچ میں آسٹریلیا کے خلاف میدان میں اترنے والی فاتحہ ثنا کی قیادت میں تقریبا اسی کمبی نیشن کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ ممکنہ الیون میں گل فیروزہ، منیبہ علی، عائشہ ظفر، ارم جاوید، سائرہ جبین، عالیہ ریاض، کپتان فاطمہ ثنا، رامین شمیم، ڈیانا بیگ، نشرہ سندھو اور سعدیہ اقبال شامل ہو سکتی ہیں۔ٹورنامنٹ میں پاکستان کی بالنگ میں بائیں ہاتھ کی اسپنر سعدیہ اقبال نمایاں کارکردگی دکھا چکی ہیں۔ انہوں نے بھارت اور جنوبی افریقہ کے خلاف دو، دو وکٹیں حاصل کرنے کے علاوہ بنگلہ دیش اور آسٹریلیا کے خلاف بھی کفایتی بالنگ کی، جبکہ ان کا اکانومی ریٹ پاکستانی بالرز میں سب سے بہتر رہا ہے۔ کپتان فاطمہ ثنا بھی بیٹنگ اور بالنگ دونوں شعبوں میں ٹیم کی اہم کھلاڑی ثابت ہوئی ہیں۔دوسری جانب نیدرلینڈز کی ٹیم بھی ایونٹ میں پہلی کامیابی کی تلاش میں ہے۔ اوپنر ہیدر سیگرز کی بیماری کے باعث دستیابی تاحال یقینی نہیں، جبکہ ان کی جگہ گزشتہ میچ میں سانیا کھرانہ نے عمدہ آغاز فراہم کیا تھا۔اسی روز برسٹل میں ویسٹ انڈیز اور آئرلینڈ کے درمیان سیمی فائنل کی دوڑ کا اہم مقابلہ کھیلا جائے گا۔ ویسٹ انڈیز کامیابی حاصل کرکے براہ راست آخری چار ٹیموں میں جگہ بنا سکتی ہے، جبکہ شکست کی صورت میں اسے انگلینڈ کی نیوزی لینڈ کے خلاف کامیابی کا انتظار کرنا ہوگا۔گروپ مرحلے کے آخری میچ میں میزبان انگلینڈ کی ٹیم لندن کے اوول گرانڈ میں دفاعی چیمپئن نیوزی لینڈ کا سامنا کرے گی۔ انگلینڈ چار مسلسل فتوحات کے ساتھ پہلے ہی سیمی فائنل میں پہنچ چکا ہے، جبکہ نیوزی لینڈ کو اگلے مرحلے میں رسائی کے لیے اپنی جیت کے ساتھ دیگر نتائج پر بھی انحصار کرنا ہوگا۔








