آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کیلئے مہلت دیئے جانے کے باوجود بنگلہ دیش کا اپنے موقف میں نرمی لانے سے انکار،میچز سری لنکا منتقل کرنے کے مطالبہ پر قائم

لاہور۔22جنوری (اے پی پی):آئی سی سی کی جانب سے بھارت میں ہونے والے آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے 24 گھنٹے کی مہلت دیئے جانے کے باوجود بنگلہ دیش نے اپنے موقف میں نرمی لانے سے انکار کر دیا اور میچز سری لنکا منتقل کرنے کے مطالبے پر قائم ہے۔ ڈھاکا میں بنگلہ دیش کے اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرل، بی سی بی صدر امین الاسلام، سی ای …

لاہور۔22جنوری (اے پی پی):آئی سی سی کی جانب سے بھارت میں ہونے والے آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے 24 گھنٹے کی مہلت دیئے جانے کے باوجود بنگلہ دیش نے اپنے موقف میں نرمی لانے سے انکار کر دیا اور میچز سری لنکا منتقل کرنے کے مطالبے پر قائم ہے۔ ڈھاکا میں بنگلہ دیش کے اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرل، بی سی بی صدر امین الاسلام، سی ای او نظام الدین اور قومی ٹیم کے کئی کھلاڑیوں کے درمیان ہونے والے اجلاس کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کو 7 فروری سے شروع ہونے والے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

بی سی بی صدر امین الاسلام نے پریس کانفرنس میں کہا کہ آئی سی سی کو دوبارہ سری لنکا میں میچز کھیلنے کا منصوبہ پیش کیا جائے گا، عالمی ادارہ اس طرح کا الٹی میٹم نہیں دے سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بنگلہ دیش نے شرکت نہ کی تو آئی سی سی 20 کروڑ ناظرین سے محروم ہو جائے گی۔ اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرل نے واضح کیا کہ بھارت نہ جانے کا فیصلہ حکومت کی جانب سے کیا گیا اور امید ہے کہ آئی سی سی سری لنکا میں کھیلنے کی اجازت دے گی۔بنگلہ دیش گروپ سی میں انگلینڈ، اٹلی، ویسٹ انڈیز اور نیپال کے ساتھ شامل اور اسے ابتدائی تین میچ کولکتہ جبکہ آخری میچ ممبئی میں کھیلنا ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف 7 فروری کو افتتاحی میچ شیڈول ہے۔

آئی سی سی نے حالیہ بورڈ اجلاس میں سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے بنگلہ دیش کو حکومت سے مشاورت کے لیے 24 گھنٹے دیئے تھے۔یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب بی سی سی آئی نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل اسکواڈ سے ریلیز کرنے کی ہدایت دی، جسے بنگلہ دیش نے سکیورٹی خدشات سے جوڑا۔ تاہم آئی سی سی نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی ایک کھلاڑی کے ڈومیسٹک لیگ سے متعلق معاملے کا ورلڈ کپ کی سکیورٹی یا شرکت سے کوئی تعلق نہیں۔