آئی میک کا کامسٹیک میں سول و کمرشل میڈی ایشن ٹریننگ پروگرام کامیابی سے مکمل

وزارتِ قانون و انصاف کے تحت قائم انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (آئی میک) نے کامسٹیک میں 6 روزہ بین الاقوامی سطح پر منظور شدہ سول و کمرشل میڈی ایشن ٹریننگ پروگرام کامیابی سے مکمل کر لیا۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان میں مقدمات کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور زیر التوا کیسز کی بڑی تعداد کے …

اسلام آباد۔16مئی (اے پی پی):وزارتِ قانون و انصاف کے تحت قائم انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (آئی میک) نے کامسٹیک میں 6 روزہ بین الاقوامی سطح پر منظور شدہ سول و کمرشل میڈی ایشن ٹریننگ پروگرام کامیابی سے مکمل کر لیا۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان میں مقدمات کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور زیر التوا کیسز کی بڑی تعداد کے پیش نظر میڈی ایشن کے نظام کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ثالثی اور مصالحتی طریقہ کار عدالتی بوجھ کم کرنے اور بروقت انصاف کی فراہمی میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میڈی ایٹرز عدالتی نظام میں مقدمات کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے صفِ اول کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اپنی خدمات کا کچھ حصہ فلاحی بنیادوں پر بھی فراہم کریں تاکہ عام شہریوں کو انصاف تک رسائی آسان ہو سکےجبکہ پیشہ ور ثالثوں کو ان کی مہارت اور خدمات کے مطابق مناسب معاوضہ بھی ملنا چاہیے۔

اس موقع پر وزارتِ قانون و انصاف کے وفاقی سیکرٹری راجہ نعیم اکبر نے کہا کہ حکومتِ پاکستان ملک بھر میں میڈی ایشن اور متبادل تنازعاتی حل (ADR) کے نظام کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگاپور کنونشن آن میڈی ایشن پر دستخط، آئی او میڈ کنونشن کی توثیق اور آئی میک کا قیام اس سلسلے کی اہم پیش رفت ہیں۔آئی میک کی پراجیکٹ ڈائریکٹر اور وزارتِ قانون و انصاف کی سینئر کنسلٹنٹ عائشہ رسول نے کہا کہ یہ پروگرام CMC UK، IMI اور SIMI کے بین الاقوامی معیار کے مطابق منعقد کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پروگرام کا مقصد ملک میں پیشہ ور ثالثوں کی تربیت اور پاکستان میں مؤثر، تیز اور باہمی تعاون پر مبنی نظامِ انصاف کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی میک ایسی نئی پیشہ ور قیادت تیار کر رہا ہے جو تنازعات کے حل کے ساتھ ساتھ امن، مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ٹریننگ پروگرام میں اراکینِ پارلیمنٹ،ججز، عدالتی افسران، وکلا، سرکاری حکام اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد نے شرکت کی۔تقریب کے اختتام پر کامیاب شرکاء میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔