آئی میک کی جانب سے اے ڈی آر سٹیک ہولڈرز کیلئے 6 روزہ ایکریڈیٹڈ میڈی ایشن ٹریننگ پروگرام کا آغاز،وزیرمملکت بیرسٹرعقیل ملک کی بطور مہمان خصوصی تقریب میں شرکت

اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزارت قانون و انصاف کے تحت قائم انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (آئی میک) نے اے ڈی آر او ڈی آر انٹرنیشنل کے اشتراک سے چھ روزہ بین الاقوامی طور پر ایکریڈیٹڈ میڈی ایشن ٹریننگ پروگرام کا کامسٹیک ، اسلام آباد میں آغاز کیا۔ ترجمان کے مطابق وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بطور مہمان خصوصی تقریب میں شرکت کی۔ …

اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزارت قانون و انصاف کے تحت قائم انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (آئی میک) نے اے ڈی آر او ڈی آر انٹرنیشنل کے اشتراک سے چھ روزہ بین الاقوامی طور پر ایکریڈیٹڈ میڈی ایشن ٹریننگ پروگرام کا کامسٹیک ، اسلام آباد میں آغاز کیا۔

ترجمان کے مطابق وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بطور مہمان خصوصی تقریب میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصالحت، ثالثی اور دیگر اے ڈی آر طریقہ کار عدالتی بوجھ کم کرنے کے لئے نہایت اہم آلات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اے ڈی آر نہ صرف عدالتوں کا بوجھ کم کرتا ہے بلکہ فریقین کو تنازعات کے حل کے لئے مؤثر، کم خرچ اور خوشگوار راستہ فراہم کرتا ہے جس سے ملک بھر میں انصاف تک رسائی کو فروغ ملتا ہے۔وزیر مملکت نے تربیت کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفیکیشن شرکا کو اندرون ملک اور بین الاقوامی سطح پر ثالثی اور مصالحت کرنے کے لئے تیار کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام نہ صرف پیشہ وارانہ صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ پرامن تنازعات کے حل کی ایک نئی ثقافت کو پروان چڑھاتے ہیں ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں یقینی بنانا ہے کہ اے ڈی آر کے فوائد عدالتوں، کاروباروں اور برادریوں تک پہنچیں۔پروجیکٹ ڈائریکٹر عائشہ رسول اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کے ساتھ ساتھ ممتاز بین الاقوامی ٹرینرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے

انہوں نے حکومت کے اس عزم کی توثیق کی کہ اے ڈی آر کو پورے ملک میں فروغ دیا جائے گا اور پاکستان کو تنازعات کے حل کے ایک معتبر مرکز کے طور پر قائم کیا جائے گا۔اپنے استقبالیہ خطاب میں سیکرٹری قانون و انصاف راجہ نعیم اکبر نے شرکا اور ٹرینرز کو خوش آمدید کہا۔ شرکا میں اراکین قومی اسمبلی، سینیٹرز، ہائی کورٹس کے ججز، وفاقی وزارتوں و محکموں کے افسران اور سینئر قانونی ماہرین شامل تھے۔

سیکرٹری نے وزارت قانون و انصاف کی خدمات کو اجاگر کیا جن کے ذریعے پاکستان میں متبادل تنازعات کے حل کو ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے جن میں سنگاپور کنونشن برائے میڈی ایشن پر حالیہ دستخط، 129 بین الاقوامی سطح پر ایکریڈیٹڈ میڈی ایٹرز کی نوٹیفکیشن، چھ میڈی ایشن سینٹرز کا نوٹیفکیشن اور اب تک 880 سے زائد ماہرین کی تربیت شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ میڈی ایشن پاکستان میں 24 لاکھ سے زائد زیر التواء مقدمات کے بوجھ کے لئے بروقت اور کم خرچ حل فراہم کرتی ہے۔

تقریب میں انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر پر پریزنٹیشن دیتے ہوئے سینئر کنسلٹنٹ وزارت قانون و انصاف اور پروجیکٹ ڈائریکٹر آئی میک عائشہ رسول نے پاکستان میں اے ڈی آر کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا تاکہ بڑھتے ہوئے عدالتی بوجھ کو کم کیا جا سکے جہاں ہر جج تقریباً 80,000 شہریوں کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہے اور تنازعات کو حل ہونے میں اکثر دہائیاں لگ جاتی ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ آئی میک کا دو پہلوؤں پر مشتمل مینڈیٹ ہے: پہلا، اندرون و بیرون ملک تنازعات کے حل کے لیے تربیت یافتہ ثالثوں اور ثالث کاروں کا پول تیار کرنا، اور دوسرا، عدلیہ کے بوجھ کو کم کر کے مقدمات کے انبار کو کم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی میک پاکستان کو سنگاپور کنونشن اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے کاروباری اداروں، بار کونسلز، جامعات اور عالمی اے ڈی آر اداروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔ عائشہ رسول نے زور دیا کہ آئی میک کا مشن صرف تنازعات کے حل تک محدود نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی، سرمایہ کاری میں اضافہ اور حکومت کے ’’اُڑان پاکستان‘‘ وژن کے تحت اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے، جس کے ذریعے پاکستان کو ثالثی اور مصالحت کا ایک معتبر بین الاقوامی مرکز بنایا جا رہا ہے۔

اے ڈی آر او ڈی آر انٹرنیشنل کی ریزیڈنٹ نمائندہ سارہ تارڑ نے زور دیا کہ روایتی مقدمہ بازی عموماً ایک فریق کے جیتنے اور دوسرے کے ہارنے پر منتج ہوتی ہے جبکہ اے ڈی آر اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ تمام فریقین کو باہمی طور پر فائدہ مند نتائج حاصل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آئی میک جیسے اداروں کی بنیاد پاکستان کے اس عزم کو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ جدید، مؤثر اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو اپنانے کے لئے پرعزم ہے۔

چھ روزہ، سہ طرفہ ایکریڈیٹڈ سول/کمرشل میڈی ایشن ٹریننگ پروگرام میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شرکاء حصہ لے رہے ہیں، جن میں پارلیمنٹیرینز، ہائی کورٹ کے ججز، وفاقی حکومت کے افسران، قانونی ماہرین اور بزنس لیڈرز شامل ہیں۔ یہ پیشہ ور افراد، ثالثی کی مہارت حاصل کرنے کے بعد، پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر سول و کمرشل تنازعات کو مؤثر طریقے سے حل کرنے کے قابل ہوں گے، جس سے پاکستان کے عدالتی و قانونی نظام کی عالمی ساکھ مزید بہتر ہوگی۔