آبنائے ہرمز بارے قرارداد کو ویٹو کرنے کا ہمارافیصلہ کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوا، چینی مندوب

چین نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز سے متعلق قرارداد کو ویٹو کرنے کا فیصلہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوا

اقوام متحدہ ۔17اپریل (اے پی پی):چین نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز سے متعلق قرارداد کو ویٹو کرنے کا فیصلہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوا۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کانگ نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 7 اپریل کو بحرین کی جانب سے پیش کردہ قرارداد پر ویٹو کا مقصد بین الاقوامی انصاف اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کا تحفظ تھا۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف تنازع کے مزید پھیلاؤ کو روکا گیا بلکہ عارضی جنگ بندی اور مذاکرات کے آغاز کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا ہوا۔چینی مندوب کے مطابق سلامتی کونسل کی کارروائیوں کا مقصد کشیدگی کم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے اقدامات کو جواز دینا جو فوجی کارروائیوں یا طاقت کے استعمال کو بڑھاوا دیں۔

فو کانگ نے کہا کہ چین آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کی آزادی اور سلامتی کی حمایت کرتا ہے اور ایران پر زور دیتا ہے کہ وہ جلد معمول کی بحری آمدورفت بحال کرے۔انہوں نے امریکا کی فوجی تعیناتی اور جارحیت کو “غیر ذمہ دارانہ اقدام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال ایران تنازع کا نتیجہ ہے، جس کا حل مکمل جنگ بندی سے ہی ممکن ہے۔چینی مندوب نے کہا کہ حالیہ جنگ بندی اور پاکستان میں امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سمت اہم پیش رفت ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ تمام فریقین جنگ بندی کی پاسداری کریں، تنازعات کو سفارتکاری کے ذریعے حل کریں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے عملی اقدامات کریں۔