آبی وسائل کا محتاط انتظام، سرمایہ کاری و منصوبہ بندی اور خواتین کی زیادہ شمولیت ناگزیر ہے، صدرمملکت آصف علی زردار ی کا عالمی یومِ آب پر پیغام

اسلام آباد۔21مارچ (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زردای نے پانی کے زیادہ ذمہ داری اور احتیاط سے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبی وسائل کا محتاط انتظام، اس سلسلے میں سرمایہ کاری و منصوبہ بندی اور خواتین کی زیادہ شمولیت ناگزیر ہے۔ مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انتہائی تشویشناک ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم آب پر اپنے پیغام میں …

اسلام آباد۔21مارچ (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زردای نے پانی کے زیادہ ذمہ داری اور احتیاط سے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبی وسائل کا محتاط انتظام، اس سلسلے میں سرمایہ کاری و منصوبہ بندی اور خواتین کی زیادہ شمولیت ناگزیر ہے۔ مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انتہائی تشویشناک ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم آب پر اپنے پیغام میں کیا جو آج اتوار کو منایا جارہا ہے۔

ایوان صدر کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ اس سال عالمی یومِ آب کا موضوع "پانی اور صنفی مساوات” ہے، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پانی کی کمی کا اثر سب پر یکساں نہیں ہوتا۔ جب محفوظ پانی گھر کے قریب دستیاب نہ ہو تو خواتین اور بچیاں سب سے زیادہ بوجھ اٹھاتی ہیں۔ پاکستان کے کئی علاقوں میں اب بھی گھریلو ضروریات کے لیے دور دراز یا ناقابل بھروسہ پانی کے ذرائع پر انحصار کیا جاتا ہے۔

خواتین اور بچیاں روزانہ کئی گھنٹے پانی جمع کرنے میں صرف کرتی ہیں جبکہ یہ وقت وہ تعلیم، روزگار یا اپنے خاندان کے ساتھ گزار سکتی ہیں۔صدر نے کہا کہ محفوظ پانی کی عدم دستیابی صحت کے مسائل کو بھی جنم دیتی ہے اور گھریلو زندگی پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے۔ اس خلا کو پُر کرنا صرف عوامی خدمات کی فراہمی کا معاملہ نہیں بلکہ انصاف اور مواقع کی فراہمی کا بھی تقاضا ہے۔ محفوظ پانی اور سینی ٹیشن کی سہولیات تک رسائی ہمارے آئین کے تحت بنیادی حق ہے۔ قابل بھروسہ اور محفوظ پانی کی فراہمی کو قومی ترجیح بنائے رکھنا ضروری ہے۔

اس کے لیے آبی وسائل کا محتاط انتظام، پانی کے نظام میں سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی و فیصلہ سازی میں خواتین کی زیادہ شمولیت ناگزیر ہے۔صدرِ مملکت نے کہا کہ مقامی کمیونٹیز بارش کے پانی کو محفوظ کرنے (رین واٹر ہارویسٹنگ) اور دیگر سادہ طریقے اختیار کر کے براہِ راست اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یہ اقدامات زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو بھرنے اور پانی کی سطح بلند کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ شہریوں کے چھوٹے چھوٹے اقدامات مجموعی طور پر پانی کی دستیابی پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔صدر مملکت نے پانی کو زراعت، شہروں اور ہمارے قدرتی ماحول کی بقا کے لیے بنیادی حیثیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبادی میں اضافے اور موسمیاتی تغیر کے باعث آبی وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے، لہٰذا ہمیں پانی کا استعمال زیادہ ذمہ داری اور احتیاط سے کرنا ہوگا۔

انہوں نے ایک بار پھر بھارت کی جانب سے معاہدۂ سندھ طاس کی یکطرفہ معطلی کی شدید مذمت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انتہائی تشویشناک ہے۔ بھارت کا اس معاہدے کو معطل کرنا، ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنا اور طے شدہ طریقہ کار کو متاثر کرنا ایک دیرینہ بین الاقوامی معاہدے کی روح اور متن دونوں کے منافی ہے، جو گزشتہ چھ دہائیوں سے دریائے سندھ کے نظام کے منصفانہ استعمال کو یقینی بناتا رہا ہے۔

اس طرزِ عمل سے خوراک اور معیشت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے، ان لاکھوں افراد کے روزگار کو نقصان پہنچتا ہے جو ان پانیوں پر انحصار کرتے ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت سرحدی آبی وسائل کے انتظام کے لیے ایک خطرناک مثال قائم ہوتی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ وہ بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد فوری طور پر بحال کرے۔