آر ایل این جی کی کمی ، کراچی میں 6 تا 16 اکتوبر 200 سے 300میگاواٹ بجلی کی پیداوار میں کمی آئی ، عامر طلال خان

قومی اسمبلی کو پاور ڈویژن کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کراچی میں 6 سے 16 اکتوبر تک آر ایل این جی کی کمی کے باعث 200 سے 300میگاواٹ بجلی کی پیداوار میں کمی آئی جس کی وجہ سے صنعتی علاقے کے علاوہ دیگر صارفین کو 2 سے 3 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا ، اب صورتحال بہتر ہوگئی ہے تاہم کراچی کے 1235فیڈر درمیانے درجے …

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کو پاور ڈویژن کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کراچی میں 6 سے 16 اکتوبر تک آر ایل این جی کی کمی کے باعث 200 سے 300میگاواٹ بجلی کی پیداوار میں کمی آئی جس کی وجہ سے صنعتی علاقے کے علاوہ دیگر صارفین کو 2 سے 3 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا ، اب صورتحال بہتر ہوگئی ہے تاہم کراچی کے 1235فیڈر درمیانے درجے اور164فیڈرزیادہ نقصانات پر ہیں جن پر نقصانات کی شرح 32فیصد سے زائد ہے، ان فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ کرنا پڑتی ہے۔

منگل کو قومی اسمبلی میں سید امین الحق کے کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے پاور ڈویژن کے پارلیمانی سیکرٹری عامر طلال خان نے کہا کہ اکتوبرکے دوسرے ہفتے میں آر ایل این جی کی کمی کے باعث بجلی کی پیداوار میں کمی آئی تھی ، یہ عرصہ 6 سے 16 اکتوبر تک کا تھا ۔انہوں نے کہا کہ کراچی کی بجلی کی کل طلب 3300میگاواٹ ہے اس صورتحال کے باعث 200 سے 300میگاواٹ کی کمی آئی تھی جو اب دور کرلی گئی ہے ، اس صورتحال کے باوجود کراچی میں کسی صنعتی علاقے میں لوڈ شیڈنگ نہیں کی گئی ، باقی صارفین کو صرف دو سے تین گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا۔

توجہ مبذول نوٹس پر سید امین الحق ، معین عامر پیرزادہ، احمد سلیم صدیقی اور سید حفیظ الدین نے سوالات کئے جن کے جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری عامر طلا ل خان نے کہا کہ کراچی میں 28فیصد فیڈرمیڈیم اور ہائی لاسز والے ہیں جب کسی فیڈر پر32فیصد سے زائد بجلی کی چوری ہوگی تو مجبورا لوڈ شیڈنگ کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے ایک ہزار سے زائد فیڈر لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں اگر کسی ایسے فیڈر پر لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے جس پرکوئی نقصان نہیں ہے تو اس کو چیک کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ کراچی کے کسی صنعتی فیڈر پر کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں کی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ کراچی کے 1235فیڈر میڈیم لاس اور164 ہائی لاس پر ہیں جن میں بلنگ کے مسائل کے علاوہ بجلی چوری بھی ہوتی ہے، اس طرح ان پرمجموعی طور پر32فیصد سے زائد نقصانات ہیں۔

مزید خبریں