سی پیک کے پہلے مرحلے نے ہماری زمینوں کو جوڑا، اگلا مرحلہ ہمارے ذہنوں کو جوڑے گا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور مستقبل کی آواز ہوگا، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور پاک چین دوستی کو نئی نسلوں تک منتقل کرنے، دونوں ممالک کے عوام کے درمیان باہمی اعتماد و ہم آہنگی کو فروغ دینے، میڈیا تعاون، حقائق پر مبنی معلومات کے تبادلے، تجارت و سرمایہ کاری، مشترکہ تحقیق اور ثقافتی روابط کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کرے گا

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور پاک چین دوستی کو نئی نسلوں تک منتقل کرنے، دونوں ممالک کے عوام کے درمیان باہمی اعتماد و ہم آہنگی کو فروغ دینے، میڈیا تعاون، حقائق پر مبنی معلومات کے تبادلے، تجارت و سرمایہ کاری، مشترکہ تحقیق اور ثقافتی روابط کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کرے گا، سی پیک کے پہلے مرحلے نے ہماری زمینوں کو جوڑا جبکہ اگلا مرحلہ ہمارے ذہنوں کو جوڑے گا، اگر سی پیک ہمارے مشترکہ مستقبل کا جسم ہے تو چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور اس کی آواز ہوگا، صدر شی جن پنگ نے ہمیں مشترکہ مستقبل کا وژن دیا، وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کو اس تک پہنچنے کے ذرائع فراہم کئے، نوجوانوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ ایک پاسپورٹ ہے اور سمارٹ فون ایک منڈی ہے، ڈیجیٹل دور میں رابطہ طاقت اور بیانیہ خودمختاری ہے، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور چار بنیادی ستونوں میڈیا، تجارت و کاروباری ادارے، تھنک ٹینکس اور ثقافت، سیاحت و نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ پاکستان اور چین مشترکہ مستقبل کی تعمیر، ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے مل کر آگے بڑھتے رہیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاک چائنا فرینڈ شپ سینٹر میں چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان مائو ننگ، پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ، وفاقی سیکریٹری اطلاعات و نشریات سمیت دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب سے وزارت اطلاعات کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں، میڈیا، معلومات کے تبادلے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پاک چین تعلقات کا فروغ میری دلی خواہش رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی سرحدوں کے ساتھ دریا، پہاڑ، ثقافتیں اور روایات بھی مشترک ہیں، یہ پہاڑ اور دریا ہماری دوستی کی علامت اور مشترکہ داستانوں کے امین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی کی داستانیں درہ خنجراب سے لے کر گوادر، کراچی اور ملک بھر تک پھیلی ہوئی ہیں، ہمارے آباؤ اجداد نے پاک چین دوستی کی داستانیں نسل در نسل منتقل کیں۔ میری والدہ مجھے بتایا کرتی تھیں کہ جب وہ طالبہ تھیں تو وہ ان طالب علموں میں شامل تھیں جنہوں نے اسلام آباد کی سڑکوں پر ہاتھوں میں چینی پرچم تھام کر عزت مآب چو آین لائی کا استقبال کیا تھا۔ میرے دادا جو 1998ء میں پاکستان کے صدر تھے، کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ انہوں نے چین کے اس وقت کے وزیراعظم ژو رونگ جی کا استقبال کیا جب وہ سرکاری دورے پر پاکستان تشریف لائے تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ کہانیاں اور روایات ہمارے مشترکہ ورثے کا حصہ ہیں، ہم اس ورثے کو آگے بڑھاتے ہوئے نئی نسلوں تک پہنچائیں گے۔ پاک چین دوستی کو مضبوط بنانا اور نئی نسلوں تک منتقل کرنا ہماری ذمہ داری ہے، یہی وجہ ہے کہ چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک کے درمیان تزویراتی تعلقات ہوتے ہیں اور بہت سے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہوتے ہیں لیکن پاکستانی ہونے کے ناطے ہمیں اس پر بہت فخر ہے کہ ایک لفظ ”باتیے“ پاکستان چین دوستی کی تعریف کرتا ہے جس کا مطلب ہے آہنی دوستی۔ پاک چین آہنی دوستی کی یہ منفرد اصطلاح صرف دونوں ممالک کے لئے مخصوص ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ صدر شی جن پنگ نے 2015ء میں پاکستان کا دورہ کر کے پاک چین دوستی کو نئی بلندی دی اور سی پیک کا اہم منصوبہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا اہم ترین منصوبہ ہے جس نے دہائیوں کی خیرسگالی کو عملی ترقی، توانائی اور بنیادی ڈھانچے میں بدل دیا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سی پیک نے ان گھروں کو روشن کیا جہاں پہلے اندھیرا چھایا رہتا تھا۔ سی پیک نے ہمارے صوبوں میں موٹرویز تعمیر کیں اور گوادر کے ذریعے پاکستان کو عالمی رسائی کا دروازہ فراہم کیا۔ درہ خنجراب کے راستے پہلی فائبر آپٹک کیبل نے پاکستان اور چین کو براہ راست جوڑ دیا ہے یہ دنیا کے بلند ترین درے پر روشنی کی ایک خاموش لکیر تھی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہندوکش، ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑی سلسلے ملتے ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان اور چین ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ صدر شی جن پنگ نے نواز شریف کی دعوت پر سی پیک کا آغاز کیا تھا، آج سی پیک 2.0 کے تحت وزیراعظم شہباز شریف اور صدر شی جن پنگ نے ترقی، روزگار، جدت، ماحول دوست ترقی اور کشادگی کی راہداریوں کے نئے مرحلے کا خاکہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے نے ہماری زمینوں کو جوڑا، اگلا مرحلہ ہمارے ذہنوں کو جوڑے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ انفارمیشن کوریڈور دونوں ممالک کے عوام کے ذہنوں کو ملانے کے لئے پل کا کردار ادا کرے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور چار ستونوں پر قائم ہے اور ہر ستون نے اپنا کام شروع کر دیا ہے، پہلا ستون میڈیا ہے، پاکستان اور چین کے 18 میڈیا اداروں پر مشتمل نیوز ایکسچینج ورکنگ گروپ قائم ہے جس میں سرکاری نشریاتی اداروں اور نجی چینلز سے لے کر شنہوا، سی ایم جی اور پیپلز ڈیلی سمیت ادارے شامل ہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان اور چین کے میڈیا ادارے باہمی تعاون سے متعلق تصدیق شدہ خبریں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور میں گمراہ کن بیانیوں کی نشاندہی اور ٹھوس حقائق سے ان کے جواب دینے کے لئے مخصوص فیکٹ چیکنگ نظام موجود ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کا دوسرا ستون کاروبار اور تجارتی ادارے ہیں، پاکستان اور چین کے ممتاز تجارتی گروپس سے استفادہ کرتے ہوئے اس ستون نے کراچی میں اپنا پہلا علاقائی دفتر کھول دیا ہے جو تجارت، سرمایہ کاری اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا ریکارڈ رکھنے کے لئے ایک تجارتی پورٹل تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پوڈ کاسٹ سیریز کے ذریعے پاکستان میں چینی کاروباری افراد اور چین میں پاکستانی کاروباری افراد کی کہانیاں بیان کی جا رہی ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کے تیسرے ستون تھنک ٹینکس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تھنک ٹینکس بیانیہ کی تشکیل میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ کی زیر قیادت اور ہمارے نمایاں تحقیقی اداروں کی شمولیت سے یہ ستون مشترکہ مکالمے، تحقیق اور چینی ہم منصب اداروں کے ساتھ اشاعتوں کے ذریعے دوطرفہ گفتگو میں شواہد اور گہرائی شامل کرے گا۔ چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کے چوتھے ستون کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ ستون ثقافت، سیاحت اور نوجوانوں پر مشتمل ہے جو اس راہداری کا دل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنکیانگ اور گلگت بلتستان کے درمیان سیاحتی راہداری پر کام جاری ہے جس سے چینی سیاحوں کے سفر کو پاکستان کے شمالی علاقوں کی وادیوں تک توسیع دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی کے یادگاری سال کے موقع پر دوستی ریلی منعقد کی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک یوتھ ایمبیسیڈرز کے پہلے گروپ کے لئے پاکستان بھر کی 13 جامعات سے نوجوانوں کو نامزد کیا گیا ہے، گلگت سے کوئٹہ، پشاور سے کراچی اور مظفر آباد سے لاہور تک کی جامعات اس میں شامل ہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ صدر شی جن پنگ نے دنیا کے سامنے ایک وسیع اخلاقی وژن پیش کیا یعنی انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کا تصور ”انسانیت مل کر ترقی کرتی ہے یا مل کر زوال پذیر ہوتی ہے“۔ کوئی قوم دوسرے کی بدامنی میں پائیدار تحفظ حاصل نہیں کر سکتی، نہ ہی کوئی قوم کسی دوسرے کی غربت میں پائیدار خوشحالی حاصل کر سکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری تقدیریں ایک دوسرے سے جڑی ہیں، ہمارا مستقبل بھی مل کر تعمیر ہونا چاہئے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی دو مختلف زبانوں، مذاہب اور تاریخوں کے حامل ممالک کی مشترکہ تقدیر کے رشتے میں بندھنے کی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دونوں رہنماؤں وزیراعظم شہباز شریف اور صدر شی جن پنگ نے نئے دور میں پاکستان اور چین کے مشترکہ مستقبل پر مبنی برادری تعمیر کرنے کا عہد کیا ہے، اگر سی پیک ہمارے مشترکہ مستقبل کا جسم ہے تو چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور اس کی آواز ہوگا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اگر سی پیک ہماری معیشتوں کو جوڑتا ہے تو یہ راہداری ہماری باہمی سمجھ بوجھ کو مربوط کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور جھوٹ کا جواب حقائق، تنہائی کا جواب تبادلے اور بداعتمادی کا جواب اعتماد سے دے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پنگ نے عالمی تہذیب کے اقدام کے ذریعے ممالک پر تہذیبوں کے تنوع کا احترام اور عوام کے درمیان باہمی فہم و ادراک گہرا کرنے پر زور دیا ہے۔ صدر شی جن پنگ نے ہمیں مشترکہ مستقبل کا وژن دیا، وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کو اس تک پہنچنے کے ذرائع فراہم کئے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی آئی ٹی طلبہ کو جدید رجحانات سے آگاہی کے لئے وظائف فراہم کرنے کی تجویز پیش کی، وزیراعظم کے اصرار پر علی بابا گروپ کے چیئرمین نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے مفاہمت کی یادداشت کا مسودہ تیار کیا جس پر دورے کے دوران 20 منٹ میں دستخط کر دیئے گئے، علی بابا گروپ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے لئے ڈیجیٹل انقلاب کا تعلق عوام اور بالخصوص پاکستان کے نوجوانوں سے ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی 68 فیصد سے زیادہ آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، نوجوانوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ ایک پاسپورٹ ہے اور سمارٹ فون ایک منڈی ہے، پاکستان اپنی صلاحیتوں کے ذریعے عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اپنا مقام بنا رہا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں رابطہ طاقت اور بیانیہ خودمختاری ہے، جو قوم ڈیجیٹل دنیا میں اپنی کہانی خود نہیں سنا سکتی اس کی کہانی دوسرے اس کی طرف سے سنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور بنیادی طور پر ڈیجیٹل راہداری ہے، نیوز ایکسچینج، حقائق کی جانچ، تجارتی پورٹلز، پوڈ کاسٹس، سوشل میڈیا چینلز اور یوتھ ایمبیسیڈرز ڈیجیٹل دور کے ایسے ذرائع ہیں جنہیں ایک دیرینہ اور قابل اعتماد دوستی کے لئے بروئے کار لایا جارہا ہے۔ یہاں بھی پاکستان چین کے ساتھ مل کر آگے بڑھ رہا ہے، فائیو جی، مصنوعی ذہانت، ای کامرس اور سمارٹ شہروں سمیت ڈیجیٹل معیشتوں میں چین کی برتری ہمارے دور کی عظیم کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے چین کے میڈیا اداروں، تھنک ٹینکس، جامعات، کاروباری اداروں اور یوتھ ایمبیسیڈرز کو سی پیک کے ہر ستون میں مکمل شراکت داری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین نے مل کر قراقرم ہائی وے تعمیر کی، بہت سے لوگوں نے دونوں قوموں کو ملانے کے لئے اپنی جانیں قربان کیں، آج ہم ایک مختلف شاہراہ تعمیر کر رہے ہیں جو چٹانوں کی بجائے سچائی سے بنے گی اور ٹرکوں کی بجائے آوازوں کے ذریعے آگے بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد کی تعمیر کردہ شاہراہ کی طرح چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور بھی قائم و دائم رہے گا۔ اس راہداری کے ذریعے پاک چین دوستی کی کہانی ہر گھر اور زبان تک پہنچائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی اس حقیقت کی زندہ گواہی ہے کہ انسانیت کا مشترکہ مستقبل ایک ایسی تقدیر ہے جسے ہم مل کر تعمیر کر رہے ہیں

مزید خبریں