اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):غیر قانونی تمباکو تجارت کو ایک بڑا دھچکا دیتے ہوئے آر ٹی او پشاور نے پہلی اور اب تک کی سب سے بڑی غیر اعلانیہ سگریٹ ساز مشینری کا سراغ لگا لیا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق 5 دسمبر 2025 کی رات آر ٹی او پشاور کی ٹیم نے مردان میں یونیورسل ٹوبیکو کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے خفیہ سگریٹ پلانٹ پر کارروائی کی جس کی …
آر ٹی او پشاور نے سب سے بڑی غیر قانونی سگریٹ فیکٹری کا سراغ لگا لیا، روزانہ ساڑھے چار کروڑ روپے کی آمدنی روک دی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):غیر قانونی تمباکو تجارت کو ایک بڑا دھچکا دیتے ہوئے آر ٹی او پشاور نے پہلی اور اب تک کی سب سے بڑی غیر اعلانیہ سگریٹ ساز مشینری کا سراغ لگا لیا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق 5 دسمبر 2025 کی رات آر ٹی او پشاور کی ٹیم نے مردان میں یونیورسل ٹوبیکو کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے خفیہ سگریٹ پلانٹ پر کارروائی کی جس کی نگرانی چیف کمشنر آر ٹی او پشاور نے کی۔ کارروائی کے دوران معلوم ہوا کہ کمپنی غیر اعلانیہ مشینری کے ذریعے "کیفے” اور "رینجر” برانڈز کے سگریٹ تیار کر رہی تھی۔
ضبط شدہ مشینری کی یومیہ پیداوار کی صلاحیت تقریباً 6,000 سے 7,000 کلوگرام کٹ تمباکو تھی، جس سے سگریٹ سازی کی صورت میں روزانہ تقریباً ساڑھے چار کروڑ روپے کی آمدنی متوقع تھی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ یونٹ پہلے اپنی اعلانیہ مشینری چلا رہا تھا تاہم غیر اعلانیہ مشینری خاص طور پر غیر قانونی سگریٹ سازی کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔ کارروائی آر ٹی او پشاور کی ٹیم نے کمشنر کی منظوری کے بعد اے ڈی سی آئی آر طارق عزیز کی قیادت میں کامیابی سے انجام دی اور مشینری کو ضبط کر لیا گیا جبکہ قانونی کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
آر ٹی او پشاور کے مطابق یہ کارروائی قانون کی بالادستی اور قومی محصولات کے تحفظ کے لیے ایف بی آر کے عزم کا واضح ثبوت ہے۔ وزیرِ اعظم کی ہدایات کے مطابق ملک بھر میں غیر قانونی سگریٹ تجارت کی روک تھام کے لیے 120 پاکستان رینجرز جی ایل ٹی یونٹس میں تعینات کیے جا چکے ہیں اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے تحت خصوصی مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیاں مستقبل میں غیر قانونی تمباکو سازی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کریں گی اور ٹیکس قوانین کی مؤثر نفاذ کو یقینی بنائیں گی۔








