آزاد کشمیر بروقت حفاظتی اقدامات کے باعث ابھی تک کرونا کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہے ، مقبوضہ کشمیر کے عوام دہری وبا کا شکار ہیں وہ بھارتی فوج اور کرونا دونوں سے لڑ رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش ہے، صدر آزا د کشمیر سردار مسعود خان کا انگریزی جریدہ کو انٹرویو

مظفر آباد ۔ 8 اپریل (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر حکومت نے قلیل وقت میں تیزی سے ضروری حفاظتی اقدامات کر کے کرونا کی وبا کو پھیلنے سے روکا ہے لیکن مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہمارے بھائی اور بہنیں دوہری وبا کا شکار ہیں وہ ایک جانب بھارتی استعمار سے لڑ رہے ہیں اور دوسری جانب …

مظفر آباد ۔ 8 اپریل (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر حکومت نے قلیل وقت میں تیزی سے ضروری حفاظتی اقدامات کر کے کرونا کی وبا کو پھیلنے سے روکا ہے لیکن مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہمارے بھائی اور بہنیں دوہری وبا کا شکار ہیں وہ ایک جانب بھارتی استعمار سے لڑ رہے ہیں اور دوسری جانب کرونا کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال ہمارے لیے گہری تشویش کا باعث ہے ۔ پاکستان کے ایک انگریزی جریدہ کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے نے کہا کہ فروری کے وسط میں ہی حکومت نے آزاد کشمیر کے داخلی اور خارجی راستوں پر چیک پوسٹس قائم کر کے اور قرنطینہ مرکز قائم کرنے کے علاوہ ہسپتالوں اور طبی مراکز کا تعین کرویا جن میں کرونا سے متاثرہ مریضوں کا علاج کیا جاسکتا ہے ۔ حکومت نے تمام دس اضلاع میں متعلقہ ضلعی افسر صحت کی نگرانی میں رپیڈ رسپانس ٹیم بنائی جن میں محکمہ مال ، ای پی آئی پروگرام اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو شامل کر کے اُنہیں رابطہ کاری ، کرونا کی روک تھام اور مانیٹرنگ کی ذمہ داری سونپی جبکہ لاک ڈائون کے بعد ملک کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کرونا کی وبا کو پھیلنے سے روکنے اور لوگوں کو بازاروں ، سٹرکوں اور دوسری جگہوں پر جمع ہونے سے روکنے کے لیے موثر اقدامات کئے اور اس طرح حکومت اور دوسرے قومی اداروں نے اس بات کو یقینی بنانے پر بھی توجہ دی کہ ریاست میں خوراک اور ادوایات کی کوئی قلت پیدا نہ ہو ۔ آزاد کشمیر کے علماء نے مساجد میں کم سے کم اجتماع اور نماز جنازہ اور دوسری مذہبی فرائض اور رسومات میں احتیاطی تدابیر کے حوالے سے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے )نے ریاستی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اضلاع میں قائم رپیڈ رسپانس ٹیموں نے کرونا کے مشتبہ مریضوں کی تلاش خاص طور پر ایسے لوگوں کو جنہوں نے حالیہ دنوں میں غیر ملکی سفر کیا یا ایسے افراد جو سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں کو تلاش کرنے میں قابل ستائش کام کیا ۔ اس کے علاوہ محکمہ صحت نے تمام ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں کرونا کے مریضوں کے لیے علیحدہ وارڈز قائم کرنے کے بعد کرونا کے مشتبہ مریضوں کے نمونے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد بھیجنے اور مظفرآباد میں عباس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے وائرولوجی شعبہ کو بہتر بنا کر مقامی سطح پر پر کرونا کے مریضوں کے ٹیسٹ لینے کے لیے اقدامات کئے جبکہ مظفرآباد کے آفیسرز کلب کو کرونا ہسپتال میں تبدیل کر کے جدید طبی آلات سے لیس کر کے پچاس بستروں کا ہسپتال بھی قائم کیاگیا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ اس وقت آزاد کشمیر کے تینوں انتظامی ڈویژنز مظفرآباد ، پونچھ اور میرپور میں کرونا کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کرنے کی سہولتیں موجود ہیں۔ مسلح افواج قرنطینہ کے سٹاف کی تربیت کی ذمہ داریاں نمبا رہی ہیں جبکہ جبکہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے میں مصروف ہے کہ لوگوں کو کھانے پینے کی تمام اشیاء میسر ہوں اور لاک ڈائون سے متاثر ہونے والے کم آمدنی والے شہریوں کو اسپیشل پیکج کے ذریعے مدد فراہم کی جائے ۔ صدر آزاد کشمیرنے اس ضمن میں صاحب ثروت افراد اور سماجی تنظیموں کے کردار کی خاص طور پر تعریف کی جو متاثرہ افراد کو ریلیف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں ۔ حکومت اپنی سطح پر بھی لاک ڈائون کے نتیجہ میں معاشی نقصانات کا تخمینہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ عوام کرونا وبا کی تباہ کاریوں اور مہلک اثرات سے بڑی حد تک آگاہ ہیں اور حکومت اور ڈاکڑوں کی ہدایات کے مطابق صحت و صفائی ، سماجی فاصلہ اور گھروں تک محدود رہنے کی طرف مجموعی طور پر توجہ دے رہے ہیں ۔ اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق آزاد کشمیر کل 28 کرونا مریضوں کے ساتھ پاکستان کے باقی خطوں کی نسبت سب سے بہتر پوزیشن میں ہے لیکن یہ وبا ہر گزرتے دن کے ساتھ پھیل رہی ہے اس لیے ہم اپنے شہریوں کو بتا رہے ہیں کہ غافل ہو کر بیٹھنے اور احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرونا وبا کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے الجزیرہ ٹیلی ویژن کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو خوف ہے کہ وہ گزشتہ سات ماہ سے جاری لاک ڈائون ، کرفیو ، بھارتی فوج کے مظالم ذرائع ابلاغ اور انٹرنیٹ پر پابندیوں اور صحت کی نا کافی سہولتوں کی وجہ سے اور اب کرونا کی وبا پھیلنے کے بعد جانوروں کی موت مر جائیں گے ۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اس وقت ہزاروں کشمیری نوجوان بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں بند ہیں جہاں اُنہیں صحت و صفائی کی ضروری سہولتیں میسر نہیں ہیں جس کی وجہ سے پورے مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں خاندان پریشان ہیں۔