آسٹریلیا کی سب سے بڑی مسجد کو تیسرا دھمکی آمیز خط موصول،انتظامیہ کا سکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ

سڈنی۔19فروری (اے پی پی):آسٹریلیا کی سب سے بڑی مسجد کے منتظمین نے ایک ماہ کے اندر تیسرا دھمکی آمیز خط موصول ہونے کے بعد اضافی سکیورٹی کا مطالبہ کیا ہے۔ لیبنیز مسلم ایسوسی ایشن کے مطابق جنوب مغربی سڈنی میں واقع مسجد کو بدھ کے روز ایک ایسا خط موصول ہوا جس میں مسلمانوں کو قتل کرنے کی بات کی گئی ہے۔ شنہوا کے مطابق یہ خط رمضان المبارک کے …

سڈنی۔19فروری (اے پی پی):آسٹریلیا کی سب سے بڑی مسجد کے منتظمین نے ایک ماہ کے اندر تیسرا دھمکی آمیز خط موصول ہونے کے بعد اضافی سکیورٹی کا مطالبہ کیا ہے۔ لیبنیز مسلم ایسوسی ایشن کے مطابق جنوب مغربی سڈنی میں واقع مسجد کو بدھ کے روز ایک ایسا خط موصول ہوا جس میں مسلمانوں کو قتل کرنے کی بات کی گئی ہے۔ شنہوا کے مطابق یہ خط رمضان المبارک کے آغاز سے چند گھنٹے قبل پہنچایا گیا اور یہ 22 جنوری کے بعد سے مسجد کو بھیجا جانے والا تیسرا دھمکی آمیز خط ہے۔ایل ایم اے کے سیکرٹری جمیل خیر نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) کو بتایا کہ ان دھمکیوں کے باعث کمیونٹی میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایل ایم اے نے حکومت کو باضابطہ طور پر خط لکھ کر مسجد کے اطراف اضافی سکیورٹی گارڈز اور سی سی ٹی وی کیمروں کے لیے مزید فنڈز فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے پولیس کمشنر مال لنیون نے میڈیا کانفرنس میں بتایا کہ پولیس نے دھمکی آمیز خط تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم رمضان کے موقع پر مسلم کمیونٹی کو بھرپور معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ جنوری میں مسجد کو بھیجے گئے پہلے خط کے سلسلے میں ایک 70 سالہ شخص کو گرفتار کر کے اس پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے جبکہ رواں ماہ بھیجے گئے دوسرے خط میں مسجد کی عمارت کو جلتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور کمیونٹی کی سکیورٹی اولین ترجیح ہے۔