آسٹریلیا کے ہائی کمشنر کی وزیرِ انسانی حقوق سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے بدھ کو یہاں وزارت انسانی حقوق کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر وزارتِ انسانی حقوق کے سیکرٹری عبد الخالق شیخ بھی موجود تھے۔ وزارت سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ملاقات میں انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط …

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے بدھ کو یہاں وزارت انسانی حقوق کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر وزارتِ انسانی حقوق کے سیکرٹری عبد الخالق شیخ بھی موجود تھے۔ وزارت سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ملاقات میں انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ دونوں فریقین نے شمولیت اور حقوق پر مبنی حکمرانی کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ہائی کمشنر نے انسانی حقوق سے متعلق قانون سازی، پالیسی اصلاحات اور ادارہ جاتی تقویت کے حوالے سے پاکستان کی حالیہ پیشرفت کو سراہا۔ انہوں نے کمزور اور پسماندہ طبقات کے تحفظ کے لیے حکومتی اقدامات کی تعریف کی اور یقین دلایا کہ آسٹریلوی حکومت انسانی حقوق کے فروغ میں پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔

وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ہائی کمشنر کا خیر مقدم کیا اور تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق کے فروغ کے حوالے سے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے قومی لائحہ عمل برائے انسانی حقوق کے تحت جاری اقدامات، انصاف تک رسائی بہتر بنانے، اداروں کی صلاحیت میں اضافے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے متعلق پیشرفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بچوں کے حقوق، معذور افراد کے حقوق، شہری و سیاسی حقوق اور اذیت کے خاتمے سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں کے تحت پاکستان کی تیاریوں اور ذمہ داریوں کے عزم کو دہرایا۔وفاقی وزیر نے یہ بھی بتایا کہ قومی انسانی حقوق کے ادارے، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق، قومی کمیشن برائے وقار نسواں اور قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال، مؤثر طریقے سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

ملاقات میں حقوق کے تحفظ کے لیے حالیہ آئینی اور قانونی اصلاحات پر بھی تبادلۂ خیال ہوا۔بچوں کے حقوق کا تحفظ گفتگو کا اہم محور رہا۔ وزیر نے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے حالیہ اقدامات سے آگاہ کیا، جن میں کم عمری میں نکاح کی روک تھام کا قانون، 2025 اور گمشدہ بچوں کی تلاش کے لیے نظامِ انتباہِ زینب برائے ردعمل و بازیابی شامل ہیں۔وزیر نے ڈیجیٹل تحفظ کے لیے جاری آگاہی مہمات، ڈیجیٹل خواندگی کے پروگراموں اور بین الاقوامی شراکت داریوں کا ذکر کیا۔

انہوں نے آن لائن مواصلاتی ذرائع کے ذریعے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے کیے جانے والے بین الاقوامی اقدامات کا خیرمقدم کیا اور بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے متعلقہ حفاظتی پالیسیاں قابلِ ستائش قرار دیں۔آخر میں دونوں فریقین نے انسانی حقوق کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید گہرائی دینے اور باہمی کوششوں کے ذریعے وقار، مساوات اور شمولیت کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔