کوالالمپور۔22دسمبر (اے پی پی):جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے وزرائے خارجہ کا پیر کو ملائیشیا میں ہنگامی اجلاس ہوا جس کا مقصد تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی جھڑپوں کو روکنا ہے جو علاقائی اور بین الاقوامی سفارت کاری کے باوجود جاری ہیں۔اے ایف پی کے مطابق رواں ماہ دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی میں تھائی لینڈ میں کم از کم 22 اور کمبوڈیا میں 19 افراد …
آسیان کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا پر جنگ بندی کے لیے دباؤ

مزید خبریں
کوالالمپور۔22دسمبر (اے پی پی):جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے وزرائے خارجہ کا پیر کو ملائیشیا میں ہنگامی اجلاس ہوا جس کا مقصد تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی جھڑپوں کو روکنا ہے جو علاقائی اور بین الاقوامی سفارت کاری کے باوجود جاری ہیں۔اے ایف پی کے مطابق رواں ماہ دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی میں تھائی لینڈ میں کم از کم 22 اور کمبوڈیا میں 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دونوں جانب 9 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔
ملائیشیا، جو آسیان کی صدارت کر رہا ہے، نے امید ظاہر کی ہے کہ کوالالمپور میں ہونے والے یہ مذاکرات دونوں رکن ممالک کے درمیان پائیدار جنگ بندی کے حصول میں مدد دیں گے۔ اجلاس کے آغاز پر ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد حسن نے دونوں پڑوسی ممالک اور دیگر آسیان نمائندوں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کو انتہائی فوری توجہ دیں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اس صورتحال میں مسلسل کشیدگی کے ان وسیع تر اثرات پر غور کرنا ہوگا جو ان لوگوں پر پڑ رہے ہیں جن کی ہم خدمت کرتے ہیں۔
دوسری جانب تھائی لینڈ کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری جنرل چچائی بنگچواد نے آسیان اجلاس میں بین الاقوامی کوششوں کا اعتراف کیا تاہم اس بات پر زور دیا کہ یہ عمل تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان دوطرفہ ہونا چاہیے۔ادھر کمبوڈیا کی وزارت دفاع نے بتایا کہ پیر کی صبح بھی جھڑپیں جاری رہیں جن میں تھائی لینڈ کی جانب سے کمبوڈیائی حدود میں توپ خانے کے گولے داغے گئے جس کے نتیجے میں ایک شہری زخمی ہوا۔








