حکومت اور آغا خان یونیورسٹی کووڈ۔19 سے شدید متاثرہ مریضوں کے علاج میں بہتری کیلئے مشترکہ طور پر کام کریں گے،ڈاکٹر ظفر مرزا

اسلام آباد ۔ 17 جون (اے پی پی) حکومت اور آغا خان یونیورسٹی کووڈ۔19 سے شدید متاثرہ مریضوں کے علاج کے معیارات میں بہتری کیلئے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔ تربیتی پروگرامز، ٹیلی مشاورت، اور ملک بھر میں دستیاب آئی سی یو سہولیات کے جائزے کیلئے آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) نے وزارت صحت، حکومت پاکستان کے ساتھ اشتراک کیا ہے تاکہ ہسپتالوں میں داخل کووڈ۔19 کے مریضوں …

اسلام آباد ۔ 17 جون (اے پی پی) حکومت اور آغا خان یونیورسٹی کووڈ۔19 سے شدید متاثرہ مریضوں کے علاج کے معیارات میں بہتری کیلئے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔ تربیتی پروگرامز، ٹیلی مشاورت، اور ملک بھر میں دستیاب آئی سی یو سہولیات کے جائزے کیلئے آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) نے وزارت صحت، حکومت پاکستان کے ساتھ اشتراک کیا ہے تاکہ ہسپتالوں میں داخل کووڈ۔19 کے مریضوں کے علاج میں معاونت فراہم کی جا سکے۔ (اے کے یو اور ہیلتھ سروسز اکیڈمی صحت عامہ کے سرکاری شعبے کے تحت کارفرما ادارہ (کے اشتراک سے کیے جانے والے اس اقدام کا آغاز کیا جا رہا ہے اور اسے وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشن اینڈ کوآررڈینشن کا تعاون حاصل ہے۔ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اس حوالہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتالوں میں داخل مریضوں کے علاج کی استطاعت میں اضافہ کرکے صحت عامہ کے وسیع تر نظام کو تقویت فراہم کرنا ہماری ترجیح ہے، مریضوں کی جان بچانے اور صحت کی بحالی کی قومی کاوشوں کو بارآور کرنے کے لیے یہ اشتراک اہم کردار ادا کرے گا۔ اس معاہدے کے تحت آغا خان یونیورسٹی ملک بھر کے ہسپتالوں میں موجود ان ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو تربیت فراہم کرے گی جو کووڈـ19 کے مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ صحت عامہ کا عملہ جو ہسپتالوں میں داخل کووڈـ19 کے مریضوں کی دیکھ بھال پر مامور ہے، انہیں ٹیلی مشاورت کے ذریعے معاونت فراہم کی جائے گی۔ چونکہ یہ علاج خاصی پیچیدگی کا حامل ہے، لہذا آغا خان یونیورسٹی نے ایک سادہ اور بلا قیمت پلیٹ فارم تشکیل دیا ہے تاکہ صحت عامہ کا عملہ ماہرین سے چند منٹوں میں رابطہ قائم کر سکے۔ اس معاہدے کے تحت یونیورسٹی، وفاقی حکومت کے ملک بھر میں جاری ‘وی کیئر’ اقدام کیلئے بھی معاونت فراہم کرے گی جس کے دوران صحت عامہ کے عملے کے 50,000 افراد کو ذاتی حفاظت کے آلات کے حوالے سے تربیت فراہم کی جائے گی۔ اے کے یو اس پراجیکٹ کیلئے سندھ کی جانب سے قائدانہ ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہے۔ اے کے یو کے اسکول آف نرسنگ اینڈ مڈوائفری کے ساتھ ساتھ میڈیکل کالج کی جانب سے صوبے بھر میں اگلے چند ہفتوں کے دوران کے دوران صحت عامہ کے عملے کے 10,000 افراد کی تربیت مکمل کی جائے گی۔ اس حوالہ سے بات چیت کرتے ہوئے ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اسد حفیظ نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم آغا خان یونیورسٹی کے ساتھ مشترکہ طور پر صحت عامہ کے عملے کے افراد کی تربیت کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہمیں صحت عامہ سے منسلک افراد کے خیال اور تحفظ کیلئے ہر ممکن قدم اٹھانا چاہیے کیوںکہ ان کے بغیر ہم کووڈـ19 جیسی عالمی وبا سے نبردآزما نہیں ہو سکتے۔ اس اقدام کے تحت آغا خان یونیورسٹی ملک بھر میں موجود ہسپتالوں (9 صوبائی اور 150 قومی ہسپتال) کے انتہائی نگہداشت کے یونٹس (آئی سی یو) کا ایک جائزہ سرانجام دے گی۔ اس مطالعہ کی مدد پاکستان میں موجود انتہائی نگہداشت کی سہولیات اور استطاعت کے حوالے سے اہم عناصر/نکات کی ایک فہرست اور متعلقہ تجاویز تشکیل دی جا سکیں گی۔ اے کے یو کے میڈیکل کالج کے ڈین ڈاکٹر عدیل حیدر نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں حکومت پاکستان کی جانب سے کووڈـ19 کے علاج کیلئے قومی کاوشوں میں معاونت فراہم کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے اور ہم تیار ہیں۔ ٹیلی مشاورت کی سروس، علم اور صلاحیت سازی کی تربیت کے ذریعے ہم انسانی جانیں بچانے کے لیے مشترکہ طور پر کار کریں گے۔ وہ ڈاکٹرز جو ہسپتالوں میں داخل بیمار کووڈـ19 مریضوں کا علاج کر رہے ہیں، اگر انہیں اس مرض کے علاج یا انتہائی نگہداشت کے ماہر سے مشاورت درکار ہے، وہ کووڈـٹیلی آئی سی یو ہاٹ لائن 2100 3486 21 92 پر فزیشنز سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

مزید خبریں