آل پاکستان ویمن چیمبرز صدور کی چوتھی بین الاقوامی کانفرنس کا اسلام آباد میں آغاز

اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):آل پاکستان ویمن چیمبرز صدور کی چوتھی بین الاقوامی کانفرنس کا اسلام آباد میں آغاز ہو گیا ہے، جس میں ملک بھر سے خواتین چیمبرز کی تیس سے زائد صدور اور سینئر قیادت شرکت کر رہی ہے۔ دو روزہ کانفرنس کا مقصد خواتین کی کاروباری صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ کانفرنس اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام اور آذربائیجان پاکستان جوائنٹ …

اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):آل پاکستان ویمن چیمبرز صدور کی چوتھی بین الاقوامی کانفرنس کا اسلام آباد میں آغاز ہو گیا ہے، جس میں ملک بھر سے خواتین چیمبرز کی تیس سے زائد صدور اور سینئر قیادت شرکت کر رہی ہے۔ دو روزہ کانفرنس کا مقصد خواتین کی کاروباری صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ کانفرنس اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام اور آذربائیجان پاکستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان تقریب کا افتتاح کریں گے۔کانفرنس میں خواتین چیمبرز کی قیادت کے علاوہ پالیسی ساز، ریگولیٹرز، مالیاتی اداروں کے نمائندے، سفارتی مشنز، ترقیاتی شراکت دار اور نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز شریک ہیں۔ فورم کا مقصد مکالمے، مشترکہ سیکھنے اور خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروباروں کو درپیش مسائل کے عملی حل تلاش کرنا ہے۔کانفرنس کا بنیادی فوکس ویمن چیمبرز کی ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ ہے تاکہ وہ خواتین کی بہتر معاونت کر سکیں ۔

زیر بحث موضوعات میں ریگولیٹری اور ڈی جی ٹی او سے متعلق امور، قیادت کی ترقی، وسائل کا حصول، مالی اور ڈیجیٹل شمولیت اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی شامل ہیں۔اسلام آباد ویمن چیمبر کی صدر ثمینہ فاضل نے کہا کہ ملک بھر میں ویمن چیمبرز کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس وقت تیس سے زائد ویمن چیمبرز کام کر رہے ہیں جن میں سے کئی نئے ہیں ،اس لیے ضروری ہے کہ انہیں وہ مہارت اور مدد فراہم کی جائے جس سے وہ مؤثر انداز میں خدمت کر سکیں۔

آذربائیجان پاکستان جوائنٹ چیمبر کے سرپرستِ اعلیٰ احسن ظفر بختاوری نے خواتین کےکاروباروں کی برآمدی صلاحیت پر زور دیتے ہوئے عالمی روابط کی اہمیت اجاگر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے بین الاقوامی روابط اور ادارہ جاتی معاونت ناگزیر ہےبالخصوص آذربائیجان جیسے شراکت دار ممالک کے ساتھ تعاون اہم ہے۔