آٹزم سے متاثرہ بچوں کے لیے جامع سہولیات کی فراہمی، اسلام آباد میں سنٹر آف ایکسیلنس کا قیام اہم پیش رفت
آٹزم سے متاثرہ بچوں کے لیے جامع سہولیات کی فراہمی، اسلام آباد میں سنٹر آف ایکسیلنس کا قیام اہم پیش رفت

مزید خبریں
اسلام آباد۔28ستمبر (اے پی پی):آٹزم سے متاثرہ بچوں کو معیاری تعلیم، خصوصی تربیت، تھراپی اور بروقت مداخلت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ-8/4 میں سنٹر آف ایکسیلنس فار آٹزم چلڈرن کا منصوبہ جاری ہے جس کی مجموعی منظور شدہ لاگت 1,349.421 ملین روپے ہے،وفاقی ترقیاتی منصوبوں میں ان کے لئے خطیر رقم مختص کی گئی ہے ۔
پلاننگ کمیشن کے مطابق یہ منصوبہ بچوں کی انفرادی صلاحیتوں اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں معاون اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے، مرکز کے قیام سے آٹزم سے متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو خصوصی تعلیم اور مختلف معاون خدمات تک بہتر رسائی حاصل ہونے کی توقع ہے۔آٹزم ایک ایسی کیفیت ہے جس میں بچوں کی ابلاغ، سماجی روابط، رویوں اور سیکھنے کے انداز میں انفرادی نوعیت کے فرق پائے جا سکتے ہیں، ایسے بچوں کے لیے بروقت تشخیص، خصوصی تعلیم، تھراپی اور مسلسل معاونت ان کی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں بروئے کار لانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اسلام آباد میں قائم کیے جانے والے سنٹر آف ایکسیلنس فار آٹزم چلڈرن کا بنیادی مقصد مختلف ضروری خدمات کو ایک جامع نظام کے تحت لانا ہے تاکہ بچوں اور ان کے والدین کو معاونت کے لیے مختلف مقامات پر جانے کی دشواری کم ہو اور انہیں ایک مربوط ماحول میسر آسکے ۔ منصوبے کے ذریعے خصوصی تعلیمی سہولیات کے ساتھ ساتھ آٹزم سے متاثرہ بچوں کی ضروریات کے مطابق تربیتی اور معاون خدمات کی فراہمی کو تقویت ملنے کی توقع ہے، اس سے بچوں کی تعلیمی اور سماجی نشوونما کے ساتھ ساتھ والدین اور خاندانوں کے لیے بھی رہنمائی اور معاونت کے مواقع بہتر ہوں گے۔
یہ منصوبہ اڑان پاکستان کے ’’ایکویٹی: تعلیم و صحت‘‘ کے ستون کے تحت بچوں کی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کی اہم مثال ہے۔ اڑان پاکستان کے تحت تعلیم اور صحت کے شعبوں میں مساوی مواقع، انسانی وسائل کی ترقی اور معاشرے کے مختلف طبقات کو بنیادی سہولیات تک بہتر رسائی فراہم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔سنٹر آف ایکسیلنس فار آٹزم چلڈرن کا قیام اسی وسیع تر وژن کا حصہ ہے جس کے تحت خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کو بھی معیاری تعلیم اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
1,349.421 ملین روپے کے اس منصوبے کی تکمیل سے اسلام آباد اور گردونواح میں آٹزم سے متاثرہ بچوں کے لیے خصوصی تعلیم اور معاون خدمات کا ایک اہم مرکز دستیاب ہوگا جو زیادہ جامع اور مساوی تعلیمی نظام کی تشکیل میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔







