اسلام آباد۔1فروری (اے پی پی):ابوظہبی ڈائیلاگ 2026 کے موقع پر وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی چوہدری سالک حسین نے فلپائن کے محکمہ برائے بیرونِ ملک محنت کشوں کے سیکرٹری اٹے ہنس لیو جے کیکڈک سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران چیئرمین ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) نے پاکستان کے سماجی تحفظ کے نظام پر تفصیلی بریفنگ دی، جس میں …
ابوظہبی ڈائیلاگ 2026:چوہدری سالک حسین کی فلپائنی وزیر سے ملاقات، سماجی تحفظ اور افرادی قوت کی ترقی پر تبادلۂ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔1فروری (اے پی پی):ابوظہبی ڈائیلاگ 2026 کے موقع پر وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی چوہدری سالک حسین نے فلپائن کے محکمہ برائے بیرونِ ملک محنت کشوں کے سیکرٹری اٹے ہنس لیو جے کیکڈک سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران چیئرمین ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) نے پاکستان کے سماجی تحفظ کے نظام پر تفصیلی بریفنگ دی، جس میں اہلیت کے معیار، فوائد، ادائیگی کے طریقۂ کار اور ادارے کے مالی ماڈل پر روشنی ڈالی گئی۔ فلپائنی وفد نے فلپائن میں رائج پنشن اور سماجی تحفظ کے نظام کا جائزہ پیش کیا۔
فریقین نے ایک دوسرے کے ماڈلز کا مطالعہ کرنے اور بہترین تجربات سے استفادہ کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔وزارت برائے سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کی جانب سے اتوار کو یہاں موصولہ اعلامیہ کے مطابق فلپائنی وفد نے تارکینِ وطن مزدوروں کے لیے اپنے جامع پری ڈیپارچر ٹریننگ ماڈل کے حوالے سے بھی معلومات فراہم کیں۔
وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے ووکیشنل اسکلز ڈویلپمنٹ میں نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک) کے کردار کو اجاگر کیا اور وزارت کے تحت کام کرنے والے دیگر اہم اداروں، جن میں اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (او پی ایف) اور بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (بی ای او ای) شامل ہیں، کے بارے میں بریفنگ دی۔
فلپائنی فریق نے ان اداروں کے قانونی و انتظامی فریم ورک میں دلچسپی ظاہر کی۔دونوں فریقین نے تارکینِ وطن مزدوروں کی رجسٹریشن، تربیت اور وطن واپسی کے بعد بحالی کے طریقۂ کار سے متعلق معلومات کے تبادلے اور قریبی رابطے کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا تاکہ باہمی تعاون کو فروغ دیا جا سکے اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ملاقات میں متحدہ عرب امارات میں پاکستان اور فلپائن کے سفارتی مشنز کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔







