اب جوہری پروگرام پر عائد قدغنوں کے پابند نہیں، ایران

تہران ۔19اکتوبر (اے پی پی):ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر عائد کسی بھی بین الاقوامی پابندی کا اب پابند نہیں رہا۔العربیہ کے مطابق یہ اعلان اُس دن سامنے آیا جب 2015 ءکے جوہری معاہدے اور اقوامِ متحدہ کی قرارداد 2231 کی مدت ختم ہو گئی۔ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آج سے معاہدے کی تمام شقیں جن میں ایران کے جوہری پروگرام …

تہران ۔19اکتوبر (اے پی پی):ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر عائد کسی بھی بین الاقوامی پابندی کا اب پابند نہیں رہا۔العربیہ کے مطابق یہ اعلان اُس دن سامنے آیا جب 2015 ءکے جوہری معاہدے اور اقوامِ متحدہ کی قرارداد 2231 کی مدت ختم ہو گئی۔ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آج سے معاہدے کی تمام شقیں جن میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق پابندیاں اور ان سے منسلک تمام انتظامی طریقہ کار شامل ہیں، غیر مؤثر ہو چکی ہیں۔

تاہم وزارت نے ساتھ ہی ایران کے "سفارت کاری پر پختہ عزم” کو بھی دہرایا۔ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سلامتی کونسل کو بھیجے گئے اپنے پیغام میں کہا کہ قرار داد 2231 جو جوہری معاہدے سے متعلق تھی آج باضابطہ طور پر اپنی مدت پوری کر چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دراصل عالمی برادری کے اُس مشترکہ یقین کی عکاسی کرتا تھا کہ اختلافات کو حل کرنے کا بہترین طریقہ سفارت کاری اور کثیرالجہتی تعاون ہے۔

تاہم عباس عراقچی کے مطابق امریکا نے ابتدا ہی میں اپنے وعدوں سے انحراف کیا، پھر یک طرفہ طور پر معاہدے سے نکل کر غیر قانونی پابندیاں دوبارہ عائد کر دیں اور اُن میں توسیع بھی کی۔ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکاکے اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی سنگین خلاف ورزی ہیں، جنہوں نے معاہدے کے نفاذ کو بری طرح متاثر کیا۔

ان کے مطابق یورپی فریقین نے بھی اپنے وعدے پورے نہیں کیے، بلکہ مزید غیر قانونی پابندیاں ایرانی اداروں اور شخصیات پر نافذ کر دیں۔انہوں نے کہاکہ امریکا اور یورپی ممالک کی "انتہائی مطالبات” اور پابندیوں کا تسلسل ہی اُس اصل مقصد کو ناکام بنا چکا ہے جس کے لیے جوہری معاہدہ طے پایا تھا۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے ہمیشہ "تعمیراتی اور مثبت طرزِ عمل” اپنایا ہے تاکہ امریکا کی معاہدے میں مکمل واپسی ممکن ہو سکے۔

مزید خبریں