احتجاج طلبہ کا حق مگر ریڈ لائنز کو سمجھنا چاہیے، ایرانی حکومت

تہران ۔25فروری (اے پی پی):ایران کی حکومت نے یونیورسٹی طلبہ کی جانب سے نکالی جانے والی ریلیوں پر پہلی بار ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ احتجاج کا حق رکھتے ہیں تاہم سب کو ریڈ لائنز کو سمجھنا چاہیے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے جاری بیان میں کہا کہ مقدس چیزیں اور جھنڈا ان سرخ لکیروں کی مثالیں ہیں جن کی …

تہران ۔25فروری (اے پی پی):ایران کی حکومت نے یونیورسٹی طلبہ کی جانب سے نکالی جانے والی ریلیوں پر پہلی بار ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ احتجاج کا حق رکھتے ہیں تاہم سب کو ریڈ لائنز کو سمجھنا چاہیے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے جاری بیان میں کہا کہ مقدس چیزیں اور جھنڈا ان سرخ لکیروں کی مثالیں ہیں جن کی ہمیں حفاظت کرنی چاہیے اور انتہائی برہمی کی حالت میں بھی ان سے انحراف نہیں کرنا چاہیے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایرانی طلبہ کے دل دکھی ہیں اور انہوں نے ایسے مناظر دیکھے ہیں جنہوں نے ان کو پریشان اور ناراض کیا اور یہ غصہ قابل فہم ہے۔ایران میں یونیورسٹی کے طلبہ نے سنیچر کو حکومت کے حق اور مخالفت میں ریلیاں نکالنے کا سلسلہ شروع کیا اور مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان میں ویسے ہی نعرے سننے کو ملے جو جنوری میں عروج تک پہچنے والے ملک گیر احتجاج کے دوران سامنے آئے تھے اور ان میں ہزاروں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

اس احتجاج کا سلسلہ دسمبر میں اس وقت شروع ہوا تھا جب شہری معاشی پریشانیوں کی وجہ سے سڑکوں پر نکل آئے تھے اور پھر آٹھ اور نو جنوری تک یہ مظاہرے بڑھتے ہوئے پورے ملک تک پھیل گئے تھے۔

 

مزید خبریں